اسرائیل نے غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات برآمد کر لیں، جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد کر لی ہیں، جس کے بعد ملک کے لیے ایک طویل اور تکلیف دہ باب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

حکام کے مطابق پولیس اہلکار ران گویلی کی باقیات شمالی غزہ کے ایک قبرستان سے ملیں، جو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پیش رفت کو سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس مرحلے میں غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کھولنے، انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی بحالی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

ران گویلی کا تابوت اسرائیل لائے جانے پر فوجی اہلکاروں، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تل ابیب کی سڑکوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر تابوت کے گزرنے کے وقت احتراماً خاموشی اختیار کیے رہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کو امید ہے کہ رفح کراسنگ کھلنے سے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے اور امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی ہو گی۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ مصر میں بڑی مقدار میں امدادی سامان موجود ہے جو سرحد کھلتے ہی غزہ بھیجا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی طے تھی، جسے اب مکمل کر لیا گیا ہے۔ تاہم دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکومت، حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں، جن پر پیش رفت کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔

Similar Posts