وہ پہلے لہجے بدلتی ہے، پھر الفاظ، پھر نقشوں پر تیر چلتے ہیں اور آخرکار زمین پر انسان گرتے ہیں۔ جنگ کی آمد سے پہلے خاموشی کا ایک عجیب شور ہوتا ہے، جسے صرف وہی سن پاتے ہیں، جنھوں نے پہلے بھی یہ آواز سنی ہو۔
آج جب خبر آتی ہے کہ امریکا اپنے جنگی بیڑے ایران کے قریب لا رہا ہے تو یہ محض ایک عسکری پیش رفت نہیں لگتی۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ عراق، افغانستان، لیبیا، شام ان سب کے ساتھ بھی کبھی اس طرح ہوا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ احتیاط کس طرح تباہی میں بدلی۔
یہ کہنا شاید آسان ہوکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر ہر پرانی دشمنی جب اسلحے کے نئے انباروں سے ملتی ہے تو نتیجہ نیا اور زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔ آج یہ خطہ پہلے ہی زخموں سے چور ہے۔ غزہ جل رہا ہے، یمن بھوک سے مر رہا ہے، شام ملبے کے درمیان زندہ ہے، عراق اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہے۔ ایسے میں ایک اور جنگ یا جنگ کا امکان پورے مشرقِ وسطیٰ کو اجتماعی سانحے میں دھکیل سکتا ہے۔
امریکا جب عالمی سلامتی کے نام پر بیڑے آگے بڑھاتا ہے تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کیا چھپا رہا ہے۔ طاقتور ریاستیں ہمیشہ اخلاقی زبان میں بات کرتی ہیں، مگر ان کے فیصلے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے ہوتے ہیں۔ تیل، راستے، اثرورسوخ یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی پریس ریلیز میں نہیں آتے مگر ہر بم کے اندر موجود ہوتے ہیں۔
ایران کو بھی معصوم ریاست کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کی سیاست ، وہاں کے جبر، وہاں کے تضادات اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ریاست کے داخلی مسائل کو بیرونی جنگ سے حل کرنا تاریخ کا سب سے بڑا فریب رہا ہے۔ جب بھی کسی ملک پر بم گرے ہیں تو قبرستان آباد ہوئے ہیں۔ ماں سے اس کا بیٹا چھینا ہے، بہن سے اس کا بھائی، کوئی عورت بیوہ ہوئی ہے اور بچوں سے ان کا باپ چھن گیا۔
جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عام انسان کے خلاف لڑی جاتی ہے مگر فیصلے ہمیشہ اس کی غیر موجودگی میں ہوتے ہیں۔ وہ کسان جو تیل کی قیمت بڑھنے سے کھاد نہیں خرید پاتا، وہ ماں جو اندھیرے میں بچوں کو سلا کر خود جاگتی رہتی ہے، وہ طالب علم جس کے ملک کا مستقبل نقشوں پر کاٹا جا رہا ہوتا ہے، یہ سب جنگ کے فریق ہیں، مگر کسی میز پر موجود نہیں۔
خلیجِ ہرمز کی بات کی جا رہی ہے۔ عسکری تجزیہ کار اسے ایک اسٹرٹیجک پوائنٹ کہتے ہیں مگر میں اسے انسانیت کی شہ رگ کہوں گی۔ یہاں سے اگر آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں صرف جنگی جہاز نہیں آئیں گے بلکہ دنیا کے کروڑوں گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے۔ مہنگائی بے روزگاری یہ سب جنگ کے وہ ہتھیار ہیں جو بغیر وردی کے مارتے ہیں۔
اس سارے منظر نامے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ خاموشی عالمی ضمیرکی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذی ہو چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی زبان انتخابی بن چکی ہے۔کہیں لاشیں قابلِ مذمت ہوتی ہیں، کہیں ناقابلِ ذکر یہ دہرا معیار ہی دراصل وہ زہر ہے جو دنیا کو مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
میڈیا کا کردار بھی اس بحران میں ایک سوال ہے۔ جنگی بیڑوں کی نقل و حرکت کو گرافکس اور اینیمیشن میں دکھایا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی اسٹرٹیجک گیم ہو، مگرکوئی یہ نہیں دکھاتا کہ ایک میزائل کے گرنے سے کتنے خواب ٹوٹتے ہیں اور دفن ہوتے ہیں۔ جنگ کو جب اسکرین پر خوبصورت بنا دیا جائے تو اس کی ہولناکی عام نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتِ حال اور بھی تشویشناک ہے۔ ہم نہ جنگ کے معمار ہیں، نہ اس کے مرکزی کردار مگر اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتے۔ ہماری معیشت پہلے ہی لرزاں ہے ہماری سیاست پہلے ہی کمزور۔ ایک علاقائی جنگ ہمیں ایک اور بحران میں دھکیل سکتی ہے، جس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی اٹھائے گا۔
سوال یہ نہیں کہ امریکا درست ہے یا ایران۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کبھی درست ہو سکتی ہے؟ہم نے صدیوں میں یہ سبق کیوں نہیں سیکھا کہ بم نظریات کو نہیں مارتے صرف انسانوں کو مارتے ہیں۔ ریاستیں رہ جاتی ہیں، سرحدیں بدل جاتی ہیں اور مائیں ہمیشہ اپنے بیٹوں کو دفن کرتی ہیں اور یہ دکھ کبھی جغرافیہ نہیں دیکھتا۔
آج جب جنگ کی آہٹ سنائی دے رہی ہے، تو سب سے بڑی مزاحمت شاید یہی ہے کہ ہم اسے معمول نہ بننے دیں۔ ہم سوال پوچھیں۔ ہم انکارکریں، ہم یہ ماننے سے انکار کریں کہ تباہی ناگزیر ہے،کیونکہ ناگزیر وہی ہوتا ہے جسے انسان قبول کر لے۔اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو بیڑوں کو پیچھے ہٹانا ہوگا، زبان کو نرم کرنا ہوگا اور انسان کو ایک بار پھر سیاست کے مرکز میں لانا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر ہمیں یہی بتائے گی کہ طاقت جیت سکتی ہے مگرکبھی درست نہیں ہو سکتی۔اور جب آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ تم اس وقت کہاں تھے، جب ایک اور جنگ کی تیاری ہو رہی تھی تو ہمیں کم ازکم یہ کہنے کے قابل ہونا چاہیے کہ ہم خاموش نہیں تھے۔
اسی تناظر میں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی یہ ذہنوں میں بھی اتاری جاتی ہے۔ خوف، نفرت اور عدم تحفظ کو اس قدر معمول بنا دیا جاتا ہے کہ انسان اپنے ہی دکھ سے بے حس ہو جاتا ہے۔ جب روزانہ خبروں میں لاشیں گنی جائیں تو ایک لاش کم یا زیادہ ہونا معنی کھو دیتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان کی اخلاقی پسپائی ہوتی ہے۔ طاقت کے مراکز اس بے حسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں،کیونکہ خاموش سماج سوال نہیں کرتے اور سوال کرنا ہی اصل مزاحمت ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ کمزور آوازوں سے شروع ہوئیں۔ وہ آوازیں جو ابتدا میں دبائی گئیں جن کا مذاق اڑایا گیا مگر آخرکار ضمیر کی صدا بن گئیں۔آج بھی اگرکہیں امید باقی ہے تو وہ اسی انسانی سوچ میں ہے، جوکہتی ہے کہ ہم جنگ کو تقدیر نہیں مانتے، ہم انسان کی زندگی کوکسی بھی جغرافیائی مفاد سے کم تر نہیں سمجھتے اور ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں چاہے، ہماری آواز کتنی ہی کمزورکیوں نہ ہو۔