ٹرمپ کا غزہ امن بورڈ

فلسطین کا تنازعہ ایک طویل عرصے سے عالمی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے، بالخصوص گزشتہ دو ڈھائی سالوں کے دوران اسرائیل کی بربریت، تشدد، بمباری اور ظلم و ستم نے غزہ کے فلسطینیوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ تاریخ میں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ امریکا کی پشت پناہی سے نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور غزہ کو تباہ و برباد کرنے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام عالمی قوانین کو پامال کیا۔ انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال قائم کی۔ غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔

مکانوں، دکانوں، اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں ہر عمارت کو نشانہ بنا کر اسے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اسرائیلی طیاروں کی بمباری نے 70 ہزار سے زائد نہتے، معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ اہل فلسطین کے حق میں پوری دنیا میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر 2025 کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ میں جنگ کے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی ہوئی حماس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور غزہ کی پٹی میں عبوری حکمرانی کا ایک ڈھانچہ بنانا تھا تاکہ غزہ میں مستقل امن اور اس کی تعمیر نو کے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ اس منصوبے کو فرانس، برطانیہ، جرمنی، روس، اسپین، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی، قطر، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے مثبت قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی تھی۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر 2025 کو امریکا کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کی منظوری دی تھی جس میں ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کی گئی تھی۔ اس منصوبے کے تحت ایک نیا عبوری ’’بورڈ آف پیس‘‘ قائم کیا جانا تھا اور مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ایک ’’بین الاقوامی استحکام فورس‘‘ بھی شامل تھی ، جس کا ٹارگٹ سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی اور حماس سمیت تمام ریاست مخالف گروپوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد دینا تھا۔

ٹرمپ امن منصوبے کے اگلے مرحلے میں سوئٹزرلینڈ کے معروف شہر ڈیوس میں گزشتہ ہفتے ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں جو اجلاس منعقد ہوا، اس میں پاکستان سمیت کئی مسلم و دیگر ممالک نے غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کردیے ہیں۔

قومی اور عالمی ذرائع ابلاغ غزہ امن بورڈ پر عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین، تجزیہ نگار اور ماہرین اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کی حمایت اور مخالفت میں دلائل دیے جا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور امن بورڈ پر دستخط کرنے والے ممالک اس چارٹرکو غزہ میں قیام امن، جنگ بندی کے مستقل خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت قرار دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مذکورہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے کئی جنگیں رکوا کر دنیا کو محفوظ بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں، غزہ کو بہترین سیاحتی مرکز بنائیں گے اور حماس کو لازمی طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا، ورنہ اسے ختم کر دیں گے۔ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شامل ہو کر گویا صدر ٹرمپ کے منصوبے کی تصدیق کر دی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ ’’ میں نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ اگر وہ فلسطینی عوام کے لیے امن، وقار اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور غزہ کی تعمیر نو کا معاملہ کامیاب ہوا تو تاریخ اس اقدام کو ان کی عظیم وراثت کے طور پر یاد رکھے گی۔‘‘ ادھر پاکستان کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے قائد حزب اختلاف راجہ ناصر نے کہا کہ جو کام نیتن یاہو نہ کر سکے اوہ اب پیس بورڈ کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو غلامی مبارک ہو لیکن ہمیں قبول نہیں۔

 ادھر فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی اہم یورپی ممالک میں امن بورڈ میں شمولیت سے انکارکردیا ہے اور اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مغربی میڈیا میں غزہ امن بورڈ کو عالمی سطح پر ایک دھوکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ غزہ کے نام پر بننے والے بورڈ آف پیس میں غزہ کی نمایندگی شامل نہیں، جو بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کا امن بورڈ غزہ کے فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد خود مختار ریاست کے قیام میں مدد دے گا؟ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کو پاکستان کی حمایت حاصل ہو گی؟ کیا القدس فلسطین کا دارالخلافہ بن جائے گا؟

Similar Posts