وجودِ باری تعالیٰ کے واضح شواہد (آخری قسط)

ہم نے پچھلے کالموں میں ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے نظرّیہ الحاد کا یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود تخلیق ہونے کا جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ یہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جب کہ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدﷺ کے نظرّیۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

فرض کریں کہ کسی انسان نے خدا کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا، وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ ہندو مائیتھالوجی میں دیوی دیوتاؤں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذھن اگر خدا کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔

مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارفی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریک ِکار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو ہر انسان کو اس کے ہر اچھے اور برے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلتّوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقتور ہو کہ ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔

جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ ہوگئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ ازل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروںگا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔

جو خود ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ جب پیغام بھیجنا شروع کیا تویہ نہیں کہا کہ بس تم نے سن لیا تو اسی وقت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجاؤ، بلکہ بار بار کہا گیا کہ تمہارے آس پاس زمین اور آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں میں واضح نشانیاں ہیں، ان پر غور کرو، تفکّر اور تدبّر کرو، تم ہر چیز میں حیرت انگیز توازن، ربط اور درجۂ کمال کی کاملیّت (Perfection) کا مشاہدہ کروگے تو تمہارا دل اور دماغ پکار اُٹھے گا کہ یہ خودبخود تخلیق نہیں ہوسکتا، یہ واقعی کسی عظیم الشّان ہستی کی تخلیق ہے۔ پھر خالق نے اپنے تخلیقی شاہکار کے بارے میں چیلنج دے دیا، فرمایا ’’ تم رحمان کی تخلیق میں سے کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے۔

پھر پلٹ کر دیکھو تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑاؤ۔ تمہاری نگاہ پلٹ کر نامراد پلٹ آئے گی‘‘ دنیا بھر کے سائنسدان طاقتور ترین دوربینوں سے مشاہدہ کرچکے مگر وہ اس عظیم الشّان تخلیق میں کوئی خامی اور کوئی معمولی سا بھی نقص (Infirmity) نہیں ڈھونڈ سکے۔ اﷲ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ایسا توازن اور تناسب ہے کہ آج تک کوئی کہیں معمولی سا بھی جھول، بدنظمی، بے ترتیبی یا بے ربطی تلاش نہیں کرسکا۔ کیا کوئی انسانی تخلیق ایسی ہوسکتی ہے جس میں ہزاروں سال بعد بھی Wear اینڈ tear نہ ہو۔ کائنات کی تخلیق اور خالق کے بارے میں صاحبانِ عقل ودانش کے لیے کیا یہی ثبوت کافی نہیں ہے۔

اتنی طاقتور ہستی نے ایک کامل (perfect) کائنات اور دنیا بنائی تو ساتھ ہی اس کی فطرت میں (کششِ ثقل کی طرح کے) ایسے قوانین ڈال دیے ہیں اور اس کے مختلف اجزاء (گیسوں وغیرہ) میں اس طرح کا توازن پیدا کردیا ہے جو انسانی بقاء اورنشوونما کے لیے ضروری ہے، یہ سب خالق کی نعمتیں ہیں۔ اب مجھے دیکھنا ہے کہ کیا یہ طاقتور ترین ہستی اور شہنشاہ انسانوں کو پیدا کرکے ان سے بے نیاز ہوکر بیٹھ گیا ہے۔ نہیں۔ ایسا ہوتا تو طاقتور، کمزور کو بھیڑیوں کی طرح چیر پھاڑ دیتا اور کمزور کی عورتوں اور جائدادوں پر قبضہ کرلیتا۔ اس عظیم الشّان خالق نے ایک خوشگوار اور متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ڈُوز اور ڈونٹس بتائے ہیںاور سخت احکامات جاری کیے ہیں۔

سب سے پہلے انسانی جان کی حرمت قائم کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے ، اگر ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کروگے تو ہم تمہیں پوری انسانیت کا قاتل سمجھیں گے اور ایک قتل کی نہیں پوری انسانیت کے قتل کی سزا دیں گے۔ اس ایک آیت سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی جانیں محفوظ ہوگئیں۔ کیا دنیا کا کوئی مفکر یا ماہرِ سماجیات اس سے بہتر الفاظ یا قانون تخلیق کرسکتا تھا۔ یا کرسکا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔

معاشرے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عدل اور انصاف ہے، اور انسانیت کو یہ گرانقدر تحفہ بھی آسمانوں سے ملا ہے۔ کیونکہ پتّوں سے تن ڈھانپنے والے انسانوں سے لے کر آج کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے صدرِ محترم تک سب کی فطرت اور سوچ یکساں ہے۔ ان کی سرشت میں عدل نہیں غلبہ ہے، انصاف نہیں قبضہ اور مخالف کا خاتمہ ہے۔ آج کے ’’مہذّب ترین‘‘ انسان اپنے جیسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور ان کے وسائل پر زبردستی قبضے کررہے ہیں۔

نہ ان کا تمدّن ان کا گریبان پکڑتا ہے نہ ان کی تہذیب اور قوانین ان کے ہاتھ روکتے ہیں، یہ نام نہاد مہذّب انسان نہیں ۔انسانوں کا خالق ہی ہے جو انسانوں کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ ہر چیز پر اختیار رکھنے والے خالق اور مالک کا حکم ہے کہ ہر قیمت پر اور ہر حال میں انصاف کرو، چاہے تمہیں اپنے والدین یا اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ فیصلہ کرنا پڑے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘ انصاف کا یہ معیار اﷲ نے مقرر کیا ہے جس کی عملی تفسیر اﷲ کے آخری نمائیندے حضرت محمدﷺ تھے۔

ایسا معیار تو دور کی بات ہے، اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان کیا کبھی کسی امریکی یا یورپی حکمران نے اﷲ کے قائم کردہ معیار سے سو گنا کم درجے کا بھی انصاف روا رکھا ہے؟ بالکل نہیں۔ ظاہر ہے میرا شعور پکار اُٹھے گا کہ کمزور کو ہلاک کرنے والوں کا نظریہ جھوٹ اور باطل ہے اور عدل اور انصاف کا حکم دینے والا ہی اصل خدا ہے۔ دنیا میں ایک شخص سو آدمیوں کی جان بچاتا ہے یا مالی امداد کے ذریعے سیکڑوں گھرانوں کی کفالت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک ظالم اور قاتل ہزاروں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ کیا دنیا میں ان دونون کو انصاف کے مطابق جزا اور سزا دی جاسکتی ہے؟ نہیں انصاف کا تقاضا صرف عادلِ مطلق، یومِ حساب کو ہی پورا کرے گا۔

خالق نے اپنی جو صفات بتائی ہیں انسانی ذھن توان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ ہر وہ انسانی عمل جو انسانی تمدن میں زہر گھولتا ہے، اس سے منع کردیا گیا، جھوٹ، بد عہدی، قتل، زنا، غیبت، تجارت میں بددیانتی، بہتان حتیٰ کہ دوسروں کو برے القاب سے پکارنے اور تکبّر سے اکٹر کر چلنے تک سے منع کردیا گیا اور انسانوں پر رحم کرنے، والدین سے، عورتوں سے نرم رویّہ رکھنے اور غریبوں، مسکینوں اور حقداروں پر دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر اس زمانے میں عورتوں کو وراثت کا حقدار قرار دے دیا، جب عورت کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیا خالق کے سوا کوئی اور صدیوں پہلے والدین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا، اور انسانوں کو ایسے اعلیٰ اخلاق سکھا سکتا تھا؟ بالکل نہیں ۔

پھر کیا کوئی انسان پورے اعتماد کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہے کہ کوئی پتہ بھی میرے علم کے بغیر نہیں ہلتا۔ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اﷲ کے حکم کے بغیر مرجائے۔

اس نے موت کا وقت مقرّر کر رکھا ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں رزق دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں نہیں دیتا۔ اگر ایسی طاقتور ہستی جو خود انسان کی محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے، یہ کہتی ہے کہ میں نے یہ دنیا آزمائش کے لیے پیدا کی ہے۔ مگر انسان کو کچھ بھی کرنے کا ارادہ اور اختیار دیا ہے۔اور اس کے عمل کے مطابق اسے جزا اور سزا دوںگا۔ تو اس عظیم الشان شہنشاہ کو ایسا کرنے کا اختیار ہے، حیرت ہے کہ ہم جو مقامی حاکم سے پوچھنے کہ ہمّت نہیں رکھتے مگر خالقِ کائنات سے انسانوں کی آزمائش کی حکمت پوچھنے پر اصرار کرتے رہتے ہیں!ہر انسان کا فرض ہے کہ اس عظیم الشان ہستی کا مقامِ ربانی تسلیم کرے اور اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس کی شانِ کریمی ملاخطہ کریں کہ وہ بار بار کہتا ہے کہ لاتعداد گناہ کرنے والا شخص بھی اگر سچّے دل سے توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو وہ اسے معاف کردے گا۔

اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، یہ تحریر سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص بلاتعصّب خالی ذھن کے ساتھ کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرے تو وہ ملحد ہوہی نہیں سکتا۔

Similar Posts