ایران اس وقت امریکا کے ساتھ کسی سیز فائر یا بات چیت کے لیے تیار نہیں، عباس عراقچی

0 minutes, 0 seconds Read
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا سے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور ملک جب تک ضروری ہوا اپنے دفاع کے لیے تیار رہے گا۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے نہ تو کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے لیے کوئی درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کسی سیز فائر یا بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور جب تک ضرورت ہوگی اس موقف پر قائم رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک امریکی صدر ٹرمپ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ غیر قانونی ہے، اس وقت تک ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران مضبوط اور مستحکم ہے اور اس وقت امریکا سے مذاکرات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

ان کے مطابق جب ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا تو اسی دوران امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا، اس لیے امریکا کے ساتھ بات چیت کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کو گزارنے کے لیے کئی ممالک ایران سے رابطہ کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شکست کے بعد مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کر دی گئی ہے۔

Similar Posts