امریکا نے یو ایس ایس ابراہیم لنکن کے بعد ایک اور بحری بیڑہ جارج واشنگٹن ایران کی طرف روانہ کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست آئیووا میں وسط مدتی انتخابی مہم کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، انہیں امید ہے ایران اب امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کا مقصد جنگ نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری و عسکری پروگرام پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
امریکی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نیول بلاکیڈ پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران کسی بھی ملک کو تیل برآمد نہ کر سکے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کردی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دیا جا سکے۔
پاسدارانِ انقلاب نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا فیصلہ میدان میں ہوگا، نہ کہ بیانات میں۔
ایران نے خطے کے ہمسایہ ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال ہوئی تو انہیں بھی دشمن تصور کیا جائے گا۔ اس بیان نے خطے میں تشویش کی فضا کو مزید گہرا کردیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم کی طرف بھی جا سکتی ہے، اگر حالات کو سفارتی ذرائع سے قابو میں نہ لایا گیا۔ فی الحال دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔