بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اریجیت سنگھ کی جانب سے بطور پلے بیک سنگر پرفارم کرنا چھوڑنے کے کے فیصلے نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پوری فلم انڈسٹری کو حیران کردیا ہے۔
اریجیت سنگھ اپنی سولڈ آؤٹ پرفارمنسز اور تقریباً تمام بڑی بالی ووڈ فلموں میں گانوں کے باعث عروج پر پہنچے مگر اپنے کیریئر کے عین عروج پر اریجیت نے فلمی دنیا سے پیچھے ہٹ کر بھارتی کلاسیکی موسیقی میں اپنی دلچسپی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ یہ اعلان بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا، تاہم اریجیت اس فیصلے پر کافی عرصے سے غور کر رہے تھے۔
مختلف انٹرویوز میں انہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی شناخت اور آواز سے ایک وقت میں عدم وابستگی محسوس ہونے لگی، یہاں تک کہ ان کا اپنا نام بھی انہیں ناگوار لگنے لگا۔
2023 میں دی میوزک پوڈکاسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اریجیت نے اس دور کو یاد کیا جب شہرت ان پر بوجھ بننے لگی تھی۔
اریجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میں اپنے نام اریجیت سنگھ سے خود کو جوڑتا تھا۔ مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوا، ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اپنا نام سن کر ہی کوفت ہونے لگتی تھی۔ ہر طرف لوگ میرا نام پکار رہے ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شروع میں یہ سب بہت بھاری محسوس ہوتا تھا، مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ نام اب میں نہیں رہا، بلکہ لوگوں کی بنائی ہوئی ایک شبیہ ہے، اسے سن کر مجھے چڑ ہونے لگتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے اپنے ہی گانے سن کر کوفت ہوتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوتا، میں بس نظرانداز کر دیتا ہوں، پہلے میں اس بات پر بہت سخت تھا کہ اپنے گانے نہ سنوں، یہاں تک کہ گھر میں کوئی میرا گانا نہیں چلاتا تھا، بعد میں میں اس معاملے میں کچھ نرم پڑ گیا۔
اریجیت سنگھ نے موسیقی کی صنعت میں غیر منصفانہ ادائیگی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل آخرکار فنکاروں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔
اپنی نسل کے مہنگے ترین گلوکاروں میں شامل ہونے کے باوجود اریجیت نے دعویٰ کیا کہ بیشتر فنکاروں کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ باتیں واضح ہونا چاہیے، یا تو کیے گئے کام کا مناسب معاوضہ دیں، یا پھر کام ہی نہ دیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کی محنت کے تناسب سے ادائیگی نہیں ہوتی۔