یونیورسٹی آف ہری پور کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں ںے غازی میں یونیورسٹی آف ہری پور کے تحصیل کیمپس کے قیام کا اعلان کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ ہمارا صوبہ ہے، ہم سڑکیں بھی بنائیں گے اور دیگر تمام مسائل بھی حل کریں گے، ہمارے دل بڑے ہیں، ہم سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم کسی کے لیے لائٹس، سڑکیں اور مارکیٹس بند نہیں کرتے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں فارم 47 کے مسلط شدہ کرپٹ ٹولے کو سیاست اور حکمرانی دونوں میدانوں میں عبرت ناک شکست دے کر دکھاؤں گا، ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور بدقسمتی سے ہم امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بیرونی سازش کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا، عمران خان نے کافروں کی سرزمین پر مسلم اُمہ کے لیے آواز اٹھائی اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرأت نہیں، کیونکہ سب کو اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو شدید برفباری میں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، کچھ بے شرم وفاقی وزرا پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تیراہ کے لوگ برفباری کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، ایک طرف تیراہ کے لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، دوسری طرف بے شرم سیاستدان ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا، ان لوگوں کو زبردستی نکالا گیا اور انہیں کوئی مالی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسخروں کے مفادات پاکستان سے نہیں جڑے، ان کے مفادات صرف لوٹ مار سے وابستہ ہیں، پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک بھاگ جانا ہی ان کا مقصد ہے، جو بھی پاکستان میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یہ لوگ اس کا ساتھ برا حشر کرتے ہیں لیکن میں نہیں جھکوں گا، پوری دنیا کی طاقت میرے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی، میں عوام کی مدد سے ان کا مقابلہ کروں گا، جو بھی میرے صوبے کے مفاد میں نہیں ہوگا، میں اس کی ہر پالیسی کے خلاف کھڑا ہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو فوج سے پہلے پختون قون ان کا مقابلہ کرے گی لیکن واضح کر دوں کے آئندہ کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔