سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ تعلیم پہلے ہی تباہ ہے، آپ اور کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟ طلبہ یونین کا کیا مقصد اور فائدہ ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یونین کا مقصد طلبا کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس طرح فیکٹریوں میں یونین ہوتی ہے، کیا طلبا وائس چانسلر کو دھمکانا چاہتے ہیں؟ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟ فائل میں 2021 کے دستاویز لگے ہیں۔
آئینی بینچ نے درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی۔