چشم بد دور

کچھ دنوں سے ہم محسوس کررہے تھے کہ ہمارے ساتھ ایک گھپلا ہورہا ہے اوریہ گھپلا بھی غیروں کی بجائے اپنوں کی طرف سے ہورہاہے اور وہ بھی خیرخواہی ہمدردی اورمحبت کے پردے میں ۔ ہوتا یوں تھا کہ ہم جب بھی کسی شادی غمی یا اورکسی تقریب میں شرکت کے لیے جاتے تو گاڑی سے اترتے ہی ہمارا کوئی بیٹا یا بھتیجا ،بھانجا آکر ہمیں سہارا دیتا اورکسی بہت ہی ضعیف ونزار بوڑھے کی طرح منزل مقصود پر پہنچا دیتا۔

پتہ چلا کہ یہ ’’دھواں سا‘‘ ہمارے گھر ہی سے اٹھ رہا ہے یعنی سب کو ’’ماں‘‘ نے سمجھایا تھا کہ یہ تو باوجود کوشش کے لاٹھی ہاتھ میں نہیں لے رہا ہے حالانکہ اس غرض کے لیے یہاں وہاں سے بڑی خوبصورت پرکشش اورفیشن ایبل عصائیں بھی مہیا کی گئی تھیں بلکہ ایک بزرگ رشتہ دار کے ذریعے ہمیں عصا کے ثواب بھی سمجھائے گئے تھے کہ نیک لوگوں کی سنت ہے، چلتے ہوئے عصا لیا کرو لیکن ہم نے اس بزرگ کو دوٹوک بتا دیا تھا کہ ابھی ہمارا ارادہ ہرگز عصا کے ذریعے ثواب کمانے کا نہیں ہے کیوں کہ اچھے اچھے گناہوں کی تمنا ہے اور نہ پوری ہونے پر مرشد کی راہ پر چل رہے ہیں کہ

 ناکردہ گناہوں کی بھی ’’حسرت‘‘ کی ملے داد

 یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

 اورپھر ہم کون سے محمد علی کلے یا آرنلڈ شوارزینگر یا بل گیٹس یا زگر برگ یا ایلون مسک یا لتا منگیشکر ہیں کہ نظرلگ جائے گی لیکن مقابل میں بہت بڑی اکثریت کا موقف تھا کہ

 شیشے کا بدن لے کر پھرتے نہیں راہوں میں

 پتھر بھی چھپے ہوں گے لوگوں کی نگاہوں میں

بری یا اچھی نظر چشم نیک وبد کے بارے میں اب تک ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا اوراسے بھی جنات ،ارواح اور ایلینز وغیرہ کی طرح دکانداری سمجھتے تھے ، لیکن اب جو سوچنا شروع کیا تو اپنی تو خیر ہے کہ اپنے پاس ایسا ہے ہی کیا جو بری نظر کاشکار ہوجائیں بقول شخصے خالی میدان سے آندھی کیا لے کر جائے گی لیکن اورایک فکرلاحق ہوگئی اپنے اس عزیزوطن کی ؟ سوچا ایسا ہے تو اپنا یہ وطن عزیز شدید خطرے میں ہے کہ جب سے یہ وجود میں آیا ہے، کارنامے ہی کارنامے اورچمتکار ہی چمتکار کرتا چلا آرہا ہے ،صبح کارنامہ ، شام کارنامہ ، اپنا تو ہے کام کارنامہ ۔ وہ بھی کسی ایک طرف یاجہت میں نہیں چاروں اطراف اورشش جہات میں ، سیاست میں، جمہوریت میں، تجارت میں ،سائنس میں، زراعت میں ۔ مطلب یہ کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است۔

اگر کوئی پتھر بھی کسی وجہ سے لڑھک کر باہرچلاجائے تو واپس آتے ہوئے وہ دس پندرہ چاندوں اورسوپچاس ستاروں سے لدا پھنداآتا ہے جو ملک کے ماتھے پر جھومروں کی طرح سجا دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہرطرف، ہرجہت، ہرجگہ چاند ہی چاند اورستارے ہی ستارے ہیں۔

 وجہ تو اس کی ہمیں معلوم نہیں لیکن پاکستان کے نام ہی میں کچھ ایسی برکت ہے جو کبھی لنکا کے نام میں ہوا کرتی تھی جہاں کوئی بھی باون گزسے ایک انچ بھی کم پیدا نہیں ہوتا تھا ،یہ صفت بھی ہم نے سری لنکا سے کھینچ کر اپنے ہاں پہنچائی ہے اور اس کے ساتھ دنیا میں جہاں جہاں بھی کوئی ’’صفت‘‘ پائی جاتی تھی، ہمارے پاکستانی وہاں سے کھینچ کرلاچکے ہیں، گویا بقول نیوز ریڈر شکیل احمد کہ ہرصبح فتح ہرشام فتح اپنا تو ہے کام فتح۔ کرکٹ کے سلسلے میں تو آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہیرو کیا کیا کارنامے دکھا چکے ہیں، یہاںتک کہ برطانیہ، آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ والے بھی ڈر ڈر کر آسمان کو دیکھتے ہیں کہ کہیں شاہین تو نہیں آرہے ہیں ؎

 در ہوا چند معلق زئی جوجلوہ گنی

 اے کبوتر نگراں باش کہ شاہیں آمد

 یہ سعادت خدا نے ہمیں ہی عطا فرمائی ہے کہ بہت اچھی صورت عطا کی ہے اور اچھی صورت کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ

 اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظرڈالی

 اورہمارے اڑوس میں تو ہیں بڑے چشم بدنظر اوربدبخت لوگ

 اس موذی اول ودوم وسوم موذی کو آپ نے دیکھا ہے ، کیسی بھوکی اور بری آنکھیں اس کی ہیں، بدنظری تو جیسے ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے، ہم خود تو اس بدنظری یا نظربد کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اس ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر اورعامل کامل پڑا ہوا ہے ۔

ہماری اپنی مرضی پر ہوتا تو ہماری پہلی نگاہ انتخاب۔حضرت جناب علامہ ڈاکٹر پروفیسر انجینئر بیرسٹر محترم علامہ و اسکالر پر پڑتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج کل وہ ہم سے کچھ ناراض ناراض اور روٹھے روٹھے سے ہیں ورنہ سال چھ مہینے میں وہ ایک دومرتبہ ہمارے اس خراب آباد کو اپنے قدوم لزوم سے فیض یاب کرتے تھے، اورکیوں ناراض نہ ہوں کہ اس ملک نے انھیںکچھ نہیں دیا لیکن کوئی بات نہیں ہمارے پاس اوربھی کئی آپشن ہیں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کارنامے پرکارنامے کرکے بھی چشم بد سے محفوظ ہیں اوراس کاصاف مطلب یہی ہے کہ ان کے پاس یقیناً کوئی ایسی تیغ بندی  موجود ہے جونظربد سے ان کو بچائے ہوئے ہے، مثال کے طور پر ہمارے صدرمحترم زرداری کو لے لیجیے کامیابیاں ہی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں لیکن مجال ہے جوکوئی ان کا بال بھی بانکا کر پائے ۔ اور ہاں حضرت مولانا مدظلہ العالی۔ وہ تو ہر دور میں، ہرحال ، ہرمعاملے میں ہر حکومت میں سدا بہار ہیں لیکن اتنی بری نظریں ہونے کے باوجود بھی کوئی ان کو نظر لگا سکا ہے اوربھی بہت سارے ہیں مثلاً گجر، چوہدری ، کراچی کے بھائی جی وغیرہ ۔

 اورہاں نظر بد لگنے کی بھی ایک بڑی مثال بھی ہمارے پاس موجود ہے، جناب بانی آف وژن آف ریاست مدینہ آف تبدیلی والے حالانکہ اس نے نظر بد سے بچنے کے لیے بہت کچھ کر رکھا تھا لیکن بری نظر سے بچ نہیں پائے ۔

Similar Posts