رویوں پہ ذرا غور کریں!

ہمیں اپنے سفر حیات میں ہمیشہ رویوں پر گہری نظر رکھنا چاہیے کیونکہ انسانی رویوں ہی سے انسانی معاشرہ کے وجود کا پتہ چلتا ہے ، دور حاضر میں سب سے زیادہ انسانی رویے ہمارے سوشل میڈیا کی جملہ کارگزاری سے اجاگر ہوتے ہیں، رویے مثبت ہوں گے تو معاشرہ فعال، خوشحال اور آسودہ حال ہو گا اور اگر یہی رویے منفی ہو گئے تو معاشرتی اور سماجی بگاڑ پیدا ہو جائے گا اس لیے سوشل میڈیا کی اندھی تقلید بعض اوقات اتنے گھمبیر مسائل اور سنگین بحران کھڑے کر دیتی ہیں کہ پھر الجھنیں ہی الجھنیں سر اٹھا کر پورے معاشرے کو ہیجان ، اضطراب ، تردد اور ذہنی تناؤ کا شکار بنا کر سوسائٹی کو تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے ، موجودہ حکومت کا یہ اقدام اور مثبت سوچ لائق تحسین ہے کہ اب وہ سوشل میڈیا کے تمام چینلز اور ٹولز کو انتہائی عرق ریزی سے پرکھ کر ان کی ممکنہ تطہیر اور اصلاح پر توجہ دینے لگی ہے ورنہ سوشل میڈیا کا اندھا طوفان تو اپنے ساتھ سب کچھ بہالے جائے گا۔

قارئین کرام! کتنے افسوس کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی اپنی دکانیں چمکانے والے بعض اوقات کتنی غیر ذمے دارانہ رویوں کو بلا سوچے سمجھے بریک کر دیتے ہیں کہ جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ، ان عاقبت نا اندیشوں کو ذرا بھر احساس نہیں ہوتا کہ ان کے اس عمل سے ملک و قوم کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے ، بیٹھے بیٹھے بات کا بتنگڑ بنا کر فقط اپنا چورن بیچنے کے لیے قومی اور ملکی مفادات کو داؤ پر لگا دیتے ہیں ایسے لوگ اپنے وطن عزیز پاکستان سے ذرا بھر مخلص نہیں ، یہ لوگ صرف ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں۔

 پرانے وقتوں میں صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کے کچھ اصول اور قواعدو ضوابط ہوا کرتے تھے، ہمیں ہمارے اساتذہ خبر کی صداقت تک پہنچنے کے لیے مکمل تحقیق کرنے کا حکم صادر کیا کرتے تھے تب کہیں جا کر وہ سچی اور کھری خبر اخبار یا کسی چینل کی زینت بنتی تھی، خبر امانت ہوا کرتی ہے ، دونوں اطراف کی وضاحتیں ضروری ہوا کرتی تھیں ورنہ یک طرفہ کسی صورت خبر شائع یا نشر نہیں ہو سکتی تھی جب سے سوشل میڈیا کی چابی ہر ایرے غیرے کے ہاتھ میں آئی ہے ، خبروں کے اس بے ہنگم ہجوم میں سچ اور جھوٹ کی تمیز باقی نہیں رہی ، بعض اوقات سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اس انداز اور اعتماد کے ساتھ جھوٹ کو سچ قرار دینے کی کوشش بسیار میں مصروف دکھائی دیتے ہیں تو بے ساختہ ان کے لیے یہ شعر لبوں پر ابھر آتا ہے کہ

کتنے سچے دکھائی دیتے ہو

جب بھی جھوٹی قسم اٹھاتے ہو

ہر ملک کے کچھ قومی راز ہوتے ہیں جنھیں اغیار اور اپنے روایتی دشمن سے چھپانا ضروری ہوتا ہے جنھیں پوشیدہ رکھنا ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے یہاں یہ چلن ہے کہ کچھ غیر ذمے دار ان رازوں کو بھی ایسے اچھال رہے ہوتے ہیں جیسے یہ ملک کے بڑے تھنک ٹینک ہوں اور یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ ان سے بڑا ذہین و فطین اور کوئی نہیں ہے ، ہم نے تو سوشل میڈیا پر سوائے چند ذمے دار ایکٹوسٹس کے علاوہ کسی کی بھی بات میں صداقت اور ملکی و قومی مفا د نہیں دیکھا ، ہاں سرکاری اور نجی ٹیلی وڑن چینل اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں، ریڈیو اور ایف ایم چینلز کا بھی مؤثر کردار ہے لیکن سوشل میڈیا کے چند ایک چینلز کے علاوہ باقی سب ذرائع کی اصلاح اور تطہیر وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

 اس میں کسی کی خفگی اور ناراضگی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ملکی و قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے ، سوشل میڈیا دوہری تلوار ہے اپنے تحفظ کے لیے بھی اور اپنا گلا کاٹنے کے لیے بھی اس لیے یہ تلوار جس کے ہاتھ میں ہے اس کا باشعور ہونا لازم ہے بصیرت ہوگی تو بصارت قائم رہے گی ورنہ بصارت ہی جاتی رہے گی اور آگے گھپ اندھیرا ہو گا ، راہیں تلاش کرو گے مگر کوئی راستہ سجائی نہیں دے گا ، سوشل میڈیا وہ بدمست گھوڑا ہے جس کی لگام کس کر رکھنا ہو گی، کوئی ماہر منجھا ہوا گھڑ سوار ہی اسے دوڑا سکتا ہے ورنہ نا اہل گھڑ سوار کو وہی سوشل میڈیا کا گھوڑا بیچ میدان کے اوندھے منہ گرا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مجموعی طور پر انسانی رویوں کو دیکھیں اور پرکھیں ان میں مثبت اور معیاری بدلاؤ لائیں، اپنے معاشرہ کو احسن رویوں سے آراستہ کریں، صبرو تحمل اور برداشت کو اپنا نصب العین بنائیں، ہر مقام ہر جگہ ہر ساعت ہر گھڑی ملک کے تحفظ پر خاص توجہ دیں، پاکستان ہے توہم ہیں اگر نعوذ باللہ اسے کچھ ہو گیا تو پھر یاد رکھئے “ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں” اور ایسا ان شاء اللہ کبھی ہو گا نہیں دشمنوں کے منہ میں مٹی پڑے گی ان کا منہ کالا ہو گا، پاکستان اسی آب و تاب کے ساتھ ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو گا ، بس کچھ اہم ، سنجیدہ اور حتمی فیصلے کرنے ہوں گے اور ان فیصلوں میں جمہوری حکومتوں کے ساتھ ساتھ ہماری پاک مسلح افواج کو اہم ترین کردار ادا کرنا ہو گا، آنے والا وقت کئی چیلنج لے کر ہمارے سامنے ہو گا اور ان چیلنجز کا ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعت اور استطاعت کو بڑھانا ہو گا۔

 اپنی معاشی حالت کو درست کرنا ہو گا ، زراعت ، صنعت ، سیاحت اور تجارت کے شعبوں کو فروغ دینا ہو گا ، حکومت کی اب ایک ہی اہم ذمے داری ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو اعتماد میں لے کر ان سے ملکی مفاد میں مؤثر اور معیاری کام لیا جائے تاکہ رزق حلال کی جستجو کے ساتھ یہ لوگ قومی فریضہ ادا کر سکیں، خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے اور پھر اس سے کوئی بھی الٹی سیدھی، اقدار و روایات کے منافی حرکت ہو سکتی ہے ، سوشل میڈیا کی لگام ریاستی ادارے ہی کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ایک ضابطہ اخلاق اور قانون قاعدہ وضع کرنا ضروری ہے تاکہ ہر عمل پر ریاستی کنٹرول رہ سکے ورنہ تو اگر پوچھ گچھ اور احتساب کا عمل سخت نہ ہوا تو پھر شتر بے مہار تو کچھ بھی کر سکتا ہے ، کھیت کھلیان حتیٰ کہ عوام کو لتاڑ اور اجاڑ سکتا ہے،” ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں “۔

Similar Posts