بلوچستان حکومت کا اہم فیصلہ

بلوچستان کی کابینہ نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جامع قانون کی منظوری دی ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے چیف منسٹر سیکریٹریٹ کوئٹہ میں 19جنوری کو صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یکم فروری سے ریاست یا حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جبری گمشدگی نہیں ہوگی اور اس حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہو گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تفتیش اور پوچھ گچھ کرتی ہیں۔

مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جاتا ہے تاہم یکم فروری کے بعد مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور اس ضمن میں ایک لیگل فریم ورک موجود ہو گا‘اگر کوئی فرد دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں غائب ہوتا ہے یا خود ساختہ طور پر روپوش ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری ریاست پر عائد نہیں کی جا سکتی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گمشدگی کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کے لیے عدالتیں اور متعلقہ کمیشن موجود ہیں مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں خود ساختہ گمشدگی کا تاثر قائم کر کے فوری طور پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے۔اس رجحان کے تدار ک کے لیے بلوچستان پریوینشن آف ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن ایکٹ(ڈبل ون ٹیٹرا ای) منظور کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے اس کے رولز 2025ء کی بھی منظوری دے دی ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ مخصوص مراکز میں مشتبہ افراد سے مجاز پولیس افسران کی نگرانی میں تفتیش ہو گی۔ساتھ ہی ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی تاہم انتہا پسندی ‘گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف سوچ کا تدارک ممکن بنایا جائے۔

 اب نئے قانون کے تحت زیرتفتیش افراد کے اہلخانہ کو 24گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی۔ ملاقات کی اجازت ہو گی ‘طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کسی فرد کو ان تفتیشی مراکز سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔جس بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے تفتیش کرنی ہو گی وہ اسی مرکز میں کرے گا۔

 وزیر اعلیٰ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ پہلے سے لاپتہ افراد کا مستقبل کیا ہوگا؟ انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے مسئلے کو طویل عرصے سے ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ بعض عناصر اس مسئلے کو محض سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری اور کابینہ کے اراکین کی کوششوں سے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مسلسل کوششیں کی اور ان کوششوں کے مثبت نتائج آئے۔

چیف جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اپنی ایک رولنگ میں لاپتہ فرد کی تعریف بیان کی تھی کہ ’’ اگر کوئی سرکاری اہلکار کسی شہری کو اغواء کرے تو اس عمل کو جبری گمشدگی کہا جاتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں یہ فیصلے بھی دیے تھے کہ ایسے افراد کے لواحقین کو معاوضے دیے جائیں۔حکومت نے لواحقین کو معاوضہ دینے کے فیصلے بھی کیے۔ وفاقی کابینہ نے اس مالیاتی سال 5 ارب روپے اس معاملے کے لیے مختص کیے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت قدیم رہا ہے۔ ملک کے پہلے آمر جنرل ایوب خان کے دور ِاقتدار میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما حسن ناصر کو لاپتہ کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں شدید تشدد کر کے شہید کردیا گیا تھا ۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں پنجاب سے سیاسی منحرفین کو لاپتہ کرکے آزاد کشمیر کے ایک کیمپ میں نظربند رکھا جاتا تھا۔اس کا انکشاف جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد کیا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو کراچی میں پیپلز کالونی کے ایک دفتر سے اٹھا کر لاپتہ کیا گیا۔ لاپتہ ہونے والوں میں سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر نذیر عباسی، پروفیسر جمال نقوی، سہیل سانگی، احمد کمال وارثی اور شبیر شر وغیرہ شامل تھے۔ نذیر عباسی شہیدکر دیا گیا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے سیکڑوں کارکن کو لاہور کے شاہی قلعہ اور کوئٹہ کے قلی کیمپ ، پشاور کے قلعہ بالا حصار میں مہینوں نظربند رکھا گیا تھا۔

امریکا کے شہر نیویارک میں نائن الیون کی دہشت گردی کے بعدامریکا اور اس کی اتحادی فوجوں نے افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ افغان طالبان اور القاعدہ کے لوگ فرار ہو کر پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان وغیرہ میں روپوش ہو گئے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں پاکستان میں روپوش ہونے والے کئی القاعدہ اور طالبان کے افراد گرفتار ہوئے تھے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب In the line of fire میں لکھا ہے کہ ان میں سے کچھ قیدیوں کو امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان سے لوگوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں شروع ہوئیں۔ ادھر بی ایل اے وغیرہ کی جانب سے دیگر صوبوںخصوصاً پنجاب سے آنے والے سرکاری ملازمین، پولیس افسروں، صحافیوں، اساتذہ، خواتین اور ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کی خوفناک لہر آئی۔ کئی لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

 سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اپنے دور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احکامات جاری کیے تھے اور جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں ایک کمیشن قائم بھی کیا تھا مگر یہ کمیشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ گزشتہ سال 20 سال بعد جسٹس جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا ۔ اب جسٹس ارشد حسین شاہ کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس مقصد کے لیے قانون کا مسودہ سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیاگیا تھا مگر اس وقت کی انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اچانک اعلان کیا کہ یہ مسودہ سینیٹ کے سیکریٹریٹ سے لاپتہ ہوگیا ہے۔

موجودہ حکومت بھی اس مسودے کو قانونی شکل نہیں دے سکی۔ بلوچستان کابینہ نے لاپتہ افراد کا مسئلہ مستقل طورپر حل کرنے کا فیصلہ کر کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کیا ہے۔ ایسا فیصلہ وفاق اور دیگر تینوں صوبوں کو بھی کرنا چاہیے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب پہلے سے لاپتہ افراد کوبھی بازیاب ہوجانا چاہیے، اگر کسی شخص نے جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے ویٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025کی منظوری بھی دی ہے۔وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں گواہان کے تحفظ کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث دہشت گردی اور سنگین جرائم میں سزاؤں کی شرح ایک فیصد تھی۔نئی اصلاحات کے تحت فیس لیس کورٹس قائم کی گئی ہیں۔جہاں گواہان کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رہے گی اور جج کے سوا کسی پر شناخت واضح نہیں ہو گی۔جس سے انصاف کی فراہمی موثر اور بروقت ہو گی اور سزاؤں کی شرح میں پچاس تا ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ جو لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک میں شروع سے شامل رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ’’ کسی اہلکار کے کسی شہری کو لاپتہ کرنے کے مجموعی طور پرکئی نقصانات ہوتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کے استعمال سے نوجوان ریاست سے مایوس ہوتے ہیں اور عام آدمی کا اعتماد ریاست سے مجروح ہوتا ہے اور معاشرہ میں غیر قانونی کام کرنے کی روایت مستحکم ہوتی ہے۔ جو گروہ ریاست سے مایوس ہیں، ان کے بیانیے کو اس صورتحال میں تقویت ملتی ہے۔ مجموعی طور پر ہماری ریاست کے چہرہ پر سیاہ نشان گہرے ہوجاتے ہیں۔

Similar Posts