افراط زرکے بارے میں بتایا گیا ہے کہ 5 سے 7 فی صد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے یہ بتایا جاتا ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ کاروبار اب بھی مہنگے قرضوں کے دباؤ میں ہیں۔ روزگار کے مواقعے گھٹتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے فی الحال اقساط کی راہ اختیارکی ہے، لیکن ضرورت اس امرکی ہے کہ مالیاتی پالیسی کو حکومتی اصلاحات، پیداواری سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی ریلیف سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک کا محتاط رویہ شاید وقت کی ضرورت بھی ہے کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال، امریکی صدرکی ٹیرف پالیسی اور امریکا اور ایران کی کشیدگی، تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے محتاط پالیسی کا اجرا کیا ہے۔
رپورٹ میں معاشی نمو کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں وہ محتاط امید دلاتے ہیں صنعتی شعبے کی بہتری، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کا ثبوت ہے، لیکن اب یہ ساری ذمے داری حکومتی معاشی ٹیم پر آتی ہے کہ معاشی شرح نموکو کس طرح سے مزید آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ ورنہ یہ خوش فہمیاں وقتی ثابت ہوں گی۔ معیشت ماضی میں بھی کئی بار ایسا دیکھ چکی ہے جب اعداد و شمار تو خوش نما دکھائی دیتے ہیں مگر چند ہی برسوں میں وہی معیشت دوبارہ بحران کی لپیٹ میں آچکی ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے قرار دے کر بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔
بلاشبہ یہ ریاستی سطح پر ایک کامیابی ہے۔ کیونکہ یہی وہ اشارے ہوتے ہیں جن پر عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار کسی ملک کی معیشت کا اندازہ لگاتے ہیں، لیکن یہاں پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کامیابی عام شہری کی زندگی میں کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ ایسے حالات میں جب بجلی اور مہنگی ہو رہی ہو،گیس اور روز مرہ زندگی کی اشیا کی گرانی کا سلسلہ بدستور جاری ہو تو عوام کیسے ریلیف محسوس کریں گے۔
پاکستان میں اس وقت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو موافق صورتحال نظر نہیں آرہی اور نہ ہی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کہ ان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے کر دوبارہ فعال کیا جائے۔ مہنگائی جب بڑھتی ہی رہتی ہے جیسا کہ پاکستان میں یہ سلسلہ اب کافی پرانا ہو چکا ہے تو مہنگائی میں سب سے پہلے مزدور، تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز متاثر ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جس طرح مالیاتی پالیسی اختیار کی گئی ہے تو ضروری ہے کہ حکومتی معاشی حکمت عملی ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہو، بہتر نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بینک، وزارت خزانہ ایک مشترکہ وژن کے تحت کام کریں جس میں استحکام کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ صرف مالیاتی پالیسی کے ذریعے معاشی اصلاحات نہیں لائی جاسکتیں بلکہ ٹیکس نظام میں بہتری، ریاستی اداروں کی اصلاح، توانائی کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ اور چھوٹی صنعتوں، گھریلو صنعتوں اور درمیانے درجے کے کاروبارکرنے والوں کے لیے جلد ازجلد مراعاتی پیکیج یا ان کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کی پالیسی نہ اختیار کی جائے، صرف مالیاتی اصلاحات سے کام نہیں چلتا۔ فی الحال تو اس رپورٹ کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حکومت کے لیے ایک انتباہی رپورٹ ہے اور مواقعے کی بھی نشاندہی کرتی ہے، لہٰذا موجودہ بہتری کو مستقل نہ سمجھا جائے، اگر درست فیصلے بروقت لیے گئے تو شرح نمو جسے پونے چار سے بڑھنے کے امکانات بتائے جاتے ہیں وہ 6 تا7 فی صد تک بھی جا سکتے ہیں۔ اس طرح معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے،کیونکہ عوام کو صرف اعداد و شمار کی خوشنمائی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنی زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتی ہے۔
ریاست کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ احتیاط اور جمود کے درمیان توازن پیدا کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جو معیشت کو نہ صرف بحران سے نکالے بلکہ عوام کے لیے امید، روزگار اور مہنگائی سے چھٹکارے کا سبب بنے اور اسی راہ پر چلتے ہوئے پاکستان عارضی معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر معاشی استحکام میں ڈھال سکتا ہے۔