جلاوطن شیخ حسینہ نے بنگلادیش کے عام انتخابات کو مسترد کر دیا

بنگلا دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بھارت میں جلاوطنی کے دوران ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا قومی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔

شیخ حسینہ نے خبر رساں ادارے کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ اگر انتخابات شفاف، آزاد اور سب کی شمولیت کے بغیر ہوئے تو بنگلا دیش طویل سیاسی بحران کا شکار رہے گا۔ ان کا الزام ہے کہ عبوری حکومت نے جان بوجھ کر ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات سے باہر کر کے لاکھوں ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کر دیا ہے۔

شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ کسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے روکنا عوام میں غم و غصہ پیدا کرتا ہے، اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور مستقبل میں عدم استحکام کی بنیاد رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تقسیم شدہ قوم کو وہ حکومت متحد نہیں کر سکتی جو اخراج کی بنیاد پر قائم ہو۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں ملک کے اہم ترین انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں۔ عبوری حکومت کی سربراہی نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، جنہوں نے شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

انتخابی کمیشن کے مطابق انتخابات کی نگرانی کے لیے یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 غیر ملکی مبصرین کو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیاسی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ادھر بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان انتخابات میں مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جبکہ ان کے مقابل ایک مذہبی جماعت کی قیادت میں اتحاد بھی میدان میں موجود ہے۔

شیخ حسینہ، جنہیں 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہلاکتوں کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی، نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش کو سیاسی پابندیوں اور بائیکاٹ کے سلسلے کو ختم کرنا ہوگا تاکہ ملک آگے بڑھ سکے اور عوامی زخم بھر سکیں۔

Similar Posts