عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات پانے کے حقدار قرار ہے۔ سپریم کورٹ نے بقایا جات ادائیگی کے فیصلے کے خلاف سرکاری اپیلیں مسترد کر دیں۔
سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو برطرفی واجبات کا حقدار قرار دے دیا۔ عدلت نے برطرف پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کے اندر تمام بقایا جات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
فیصلہ میں شعر بھی لکھا گیا
فیصلے کے آغاز میں درج نظم کے الفاظ یہ تھے کہ ’’انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔‘‘ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیا گیا کہ ’’رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ اب حاکمیت کے کلچر کے بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ صوابدیدی اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے، جسے محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا، ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے، نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد پچھلے واجبات روک لیے گئے تھے اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کیا تھا۔
پولیس اہلکاروں کی استدعا تھی وہ بحال ہو چکے ہیں، انہیں تمام واجبات بھی ملنے چاہئیں جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید ہے۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔