تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت کر لی گئیں۔
شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے ایکسپریس سے خصوصی گفگتو کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا، جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی (پروف آف پریزنس) اور موبائل فون لوکیشن کو پوسٹ مارٹم سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ ازسرنو ترتیب دیکر شناخت کیا گیا ہے۔
شناخت کیے جانے والوں میں نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئی فیملی کے 3 افراد عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹا علی شامل ہیں جبکہ سائٹ میٹروول کے رہائشی دبئی کراکری شاپ کے 2 حقیقی بھائیوں نعمت اللہ اور عبداللہ، ان کے 2 کزن یوسف خان اور گارڈن کے رہائشی صداقت اللہ، قصبہ کالونی کے رہائشی کراکری شاپ کے مالک یاسین کے علاوہ 3 سگے بھائیوں خضر علی، حیدر علی، عامر علی اور رنچور لائن کے رہائشی ابو بکر شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس سے شناخت کے بعد جاں بحق 12 افراد کی باقیات لواحقین کے سپرد کر دی گئیں ہیں۔ سانحے میں جاں بحق افراد میں سے اب تک شناخت کی جانے والوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے جن میں سے 20 افراد کی شناخت ڈی این اے، 12 افراد کی باقیات کی شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی مدد سے 6 افراد کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی ہے۔
عامر حسن نے بتایا کہ سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سے ڈی این اے کے ذریعے 4 سے 5 افراد کے نتائج آنا باقی ہیں دیگر باقی تمام باقیات میں سے ڈی این اے کے نتائج منفی آئے ہیں اور باقی باقیات میں سے ڈی این اے کے نمونے نہیں مل سکے ہیں جس کے بعد کسی ایسے حل کی جانب جانا تھا تاکہ باقیات کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسے عالمی انسانی حقوق موجود ہیں کہ جن کے تحت اسی صورتحال میں پروف آف پریزنس کو سامنے رکھتے ہوئے جاں بحق افراد کی لوکیشن، جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی، ان کے استعمال کی اشیاء کا ملنا، ان تمام باتوں کو پوسٹ مارٹم کی معلومات سے ازسرنو ترتیب دیا ہے تو ان باقیات کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔
عامر حسن نے بتایا کہ کچھ لواحقین اپنی دکانوں سے باقیات نکال کر لاتے تھے اور ان کی لوکیشن بھی اسی جگہ کی آ رہی ہوتی ہے، یہ ایک مثبت پوائنٹ ہے۔ مثال کے طور پر سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ابوبکر کے بیٹے تاج محمد خود ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ جا کر اپنے والد کی باقیات لے کر آئے تھے اور تین افراد کی باقیات کو ویڈیو شواہد کی روشنی میں شناخت کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے بیشتر افراد کی باقیات میں سے ڈی این اے ملنا نہ ممکن تھا کیونکہ باقیات مسلسل آگ کی وجہ سے راکھ میں تبدیل ہوگئے تھے، باقیات ہاتھ میں لیتے ہی ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہیں، ان میں کوئی بھی بائیولوجیکل فلوڈ موجود نہیں ہے، اس ساری صورتحال میں کوئی نہ کوئی حل نکالنا ضروری تھا۔
شناخت پروجیکٹ کے سربراہ نے بتایا کہ کہ آج اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی مدد سے مزید 10 سے زائد افراد کی باقیات کو شناخت کرنے کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔