فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لیڈر کو ہفتے کی رات جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، سوال یہ ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کی حالت یہاں تک کیوں پہنچی کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا؟ بانی کی بیماری کو کیوں چھپایا گیا؟ بانی کی صحت کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کیوں نہیں بتایا گیا؟ حالات اگر اتنے سنگین تھے تو بانی کے ذاتی معالج کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ ہفتے سے لے کر آج تک اس بات کو کیوں چھپایا گیا اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟
انہوں ںے کہا کہ بانی کی زندگی کے ساتھ مذاق کیا گیا یے، بانی کی زندگی کے ساتھ مذاق یہ قوم برداشت نہیں کرے گی، ضروری ہے کہ حالات کو مزید سنگینی سے بچانے کے لیے عمران خان کے اہل خانہ، پارٹی اور وکلا کی ملاقات کرائی جائے، عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا، بانی پر ایک قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے عمران خان کی خرابی صحت کو چھپانا میڈیکل ٹیررازم ہے، ہر انسان کا بنیادی حق ہے وہ اپنے ذاتی معالج سے علاج کرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بھگوڑا لندن بھاگ گیا تھا جس کے جعلی طریقے سے پلیٹ لیٹس گرے تھے اس کے لیے پوری دنیا سر پر اٹھائی گئی،میڈیا کو عمران خان کی صحت پر آواز اٹھانی چاہیے، میں بانی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہوں، بانی کی صحت کے حوالے سے پوری قوم غصے میں ہے، جس طرح ایک تصدیق شدہ چور کے لیے آواز اٹھائی گئی اسی طرح بانی کے حوالے سے آواز اٹھائی جائے۔
سہیل آفریدی نے عمران خان کو جیل سے باہر لانے اور واپس سے متعلق فیکٹری ناکے پر موجود ایس ایچ او سے کہا کہ یہ جو آپ لوگ چوری چوری چپکے چپکے قوم کے لیڈر کو باہر لے کر جاتے ہیں، کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اس چوری کی اب کیا پوزیشن ہے؟
آج ملاقات کے لیے چھوڑیں گے یا نہیں؟ ہم آئے ہیں ہمارے نام ہیں، حالات تشویش ناک ہیں اور مزید ہوتے جا رہے ہیں، آپ اپنے بڑوں سے بات کریں اگر آج ملاقات نہیں ہوئی تو حالات خراب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہی پیغام ہے آپ پہنچا دیں۔