غزہ امن بورڈ

غزہ میں قیام امن، جنگ کے خاتمے، تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینیوں کی داد رسی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے اس پر عالمی ذرائع ابلاغ میں تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی موجودگی میں کہ جس کے قیام کا مقصد ہی دنیا میں جنم لینے والے تنازعات کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا، صدر ٹرمپ کا اپنی سربراہی میں ایک نیا ادارہ بنانا اور عرب ممالک اور مغربی و یورپی ممالک کو اس میں شامل کرنے پر اصرار کرنا گویا اقوام متحدہ کی اہمیت کو گھٹانا اور اس کی عالم گیر حیثیت کو بے توقیر کرنا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اقوام متحدہ میں شامل 193 ممالک ادارے کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں جب کہ سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد 15 ہے جن میں پانچ مستقل ارکان ہیں ان میں امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔

ان ارکان کو ’’ ویٹو پاور‘‘ بھی حاصل ہے۔ غیر مستقل ارکان کی تعداد دس ہے۔ یہ ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے دو سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی 2025-2026 کی مدت کے لیے سلامتی کونسل میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ سب سے اہم قرارداد جو کونسل میں منظور کی گئی اس کے مطابق 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست، مشرقی یروشلم پر قبضہ اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی روک تھام ہر صورت لازمی ہے۔ قرارداد 2334 میں اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر روک دے۔ سلامتی کونسل کی بیشتر قراردادیں 1967 کی سرحدوں پر مشتمل دو ریاستی حل پر زور دیتی ہیں۔

ٹرمپ کے امن بورڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں، بڑے ممالک بھی مخالف اور شامل نہیں ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے بقول امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق بورڈ میں شمولیت کے باوجود پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے جو تاریخی، اصولی اور دو ٹوک ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالخلافہ القدس الشریف (یروشلم) ہو۔ نیز یہ کہ پاکستان اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرتا جب تک وہ مقبوضہ عرب علاقوں سے انخلا نہ کرے اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہ آئے۔

 سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں تو پاکستان شامل ہو گیا اور اب ٹرمپ غزہ کے حوالے سے جو بھی منصوبہ بندی کریں گے۔ پاکستان کو ہر صورت اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا تو کیا صدر ٹرمپ بھی تنازعہ فلسطین پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کے حامی ہیں؟ کیا پاکستان کی حکومت صدر ٹرمپ سے اپنے موقف کی حمایت حاصل کر پائے گی؟ کیا صدر ٹرمپ میڈیا کے سامنے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنے اور اس کے مطابق تنازعہ فلسطین کے حل کی یقین دہانی کروائیں گے؟ ان سوالوں کا جواب حکومت کے کسی نمایندے کے پاس ’’ہاں‘‘ میں موجود نہیں ہے۔

ٹرمپ کے اصل مقاصد میں تنازعہ فلسطین کا حل صرف اس پر اسرائیلی قبضے کو مستحکم کرنا ہے اور دوسرے عرب ممالک کو ’’ابراہیمی معاہدے‘‘ میں شامل ہونے پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کر سکیں۔ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات معمول پر آجائیں اور مسلم ممالک باقاعدہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور تحریک تحفظ آئین کی قیادت تنقید کررہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کے بغیر جو فیصلے کیے جا رہے ہیں وہ عوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ پارلیمنٹ کی اہمیت کو کم کرنے اور اسے غیر موثر سمجھنے کے مترادف ہے۔ حکومت آئینی ترامیم کی منظوری سے لے کر اہم قوانین کی منظوری تک جس جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ۔ بہتر اور مناسب جمہوری طریقہ یہ ہے کہ اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر حتمی فیصلے سے پہلے عوام کے منتخب نمایندوں کے ایوان پر اس پر بحث کرائی جائے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔

Similar Posts