اسی بنیاد پر ہمارے دہشت گردی سے جڑے مسائل تواتر کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خاتمہ کا کوئی پائیدار سطح کا علاج تلاش نہیں کرسکے ہیں ۔سفارت کاری کے محاذ پر بھی یہ تو تسلیم کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو علاقائی سطح پر دہشت گردی جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے لیکن ان مسائل کو پیدا کرنے میں جو کردار بھارت اور افغانستان کا ہے، اس کے خلاف عالمی طاقتیں یا قوتیں یا عالمی سفارت کی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت ان ممالک کے خلاف دیکھنے کو نہیں مل رہی۔
2025میں اگر ہم دیکھیں یا دہشت گردی کے تناظر میں جائزہ یا تجزیہ کریں تو داخلی سطح پر کوئی اچھی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ اس دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ دہشت گردی سے جڑے مسائل پاکستان کے نظام میں معمول کی کارروائی کی سطح پر دیکھے جارہے ہیں یا ہم ان واقعات کے عادی ہوگئے ہیں ۔اسلام آباد کے تھنک ٹینک جو سیکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لیتا ہے یعنی انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی ’’ پاکستان سیکیورٹی رپورٹ ’’2025 کے مطابق ملک بھر میں 699دہشت گردی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جو2024کے مقابلے میں 34فیصد زیادہ ہیں ۔
ان حملوں میں 1034افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں اور 1366افراد عملا زخمی ہوئے ہیں جو ہلاکتوں میں 21فیصد اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے ۔یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے اور ہم آسانی سے اس سے جان نہیں چھڑاسکیں گے۔یہ ایک ایسا بحران ہے جس نے مجموعی طور پر ہماری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس پر قابو پانا بطور ریاست ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے یا نظر آتا ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف عام آدمی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرف ہماری سیکیورٹی کے اہم افسران، اہلکار یا دیگر اداروں یا دفاتر کو بالخصوص ٹارگٹ بنا کر ایک خوف کی فضا قائم کی جارہی ہے۔دہشت گرد یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اب ہمارا اصل ٹارگٹ عام آدمی کم اور سیکیورٹی سے جڑے افراد اور ادارے زیادہ ہیں۔ جب ایک خاص مقصد کے تحت اداروں کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے ایک ہی منطق ہوتی ہے سیکیورٹی اداروں کو جہاں تقسم کرنا ہوتا ہے وہیں یہ پیغام بھی دینا ہوتا ہے کہ ہم ریاست اور ریاستی اداروں کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری فوج یا سیکیورٹی ادارے یا اہلکار یا فوجی جوان یا افسران اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ پر نہ صرف لڑرہے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہادت کا درجہ یا وطن کی خاطر قربان بھی ہورہے ہیں ۔لیکن اس جنگ سے ہم کیسے نمٹیں گے او رکیسے اس جنگ کا خاتمہ ہوگا یہ سوال ہماری سیاست یا ریاست کے سامنے ایک بڑے اہداف کی صورت میں ہمیشہ سوالیہ نشان کے طور پر رہے گا۔کیونکہ ہم جو دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا ان کے جو بھی بندوبست یا سہولت کار یا ٹھکانے ہیں ان کا خاتمہ ہماری ترجیحات کا حصہ ہیں ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی اس وقت بھی کم ہونے کی بجائے جہاں بڑھ رہی ہے وہیں دہشت گرد بھی ہماری داخلی نوعیت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہماری ریاستی یا حکومتی رٹ کو دہشت گردی کی بنیاد پر چیلنج کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردوں کو مختلف حوالوں سے سیاسی ،انتظامی ،مالی اور اسلحہ کی بنیاد پر سپورٹ یا سہولت کاری مل رہی ہے وگرنہ تنن تنہا اس طرز کی دہشت گردی کو طوالت دینا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔اصل چیلنج یہ ہے کہ دہشت گردی ہو یا دہشت گرد ان کو کسی بھی سطح پاکستان کی مخالفت میں منظم ہونے سے روکنا ہے اور ان کا جو باہمی ایجنڈا ہمیں پاکستان کو سیاسی اور معاشی یا سیکیورٹی کے عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اس کے آگے بندھ باندھنا ہوگا۔لیکن یہ کام پاکستان سیاست کی سطح پر تن تنہا نہیں کرسکے گا بلکہ اس کے لیے ہمیں علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے ۔ایک مسئلہ ہماری داخلی سیاست کا بھی ہے جس میں ہمیں خیبر پختونخواہ کی سطح پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ٹکراو یا حکمت عملی کی سطح پر تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے ۔سیاسی بیان بازی میں ایک دوسرے سے متضاد بیانات اور الزام تراشیوں کی سیاست نے بھی ہمارے داخلی سطح کے مسائل میں اضافہ کیا ہے ۔
حالانکہ اس اہم اور نازک موڑ پر تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکومت ہو یا حزب اختلاف یا سیکیورٹی اداروں کی سطح پر باہمی اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملی میں ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔یہاں مسئلہ اس داخلی سیاسی کشمکش کا بھی ہے جس نے اس دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور اس کی حکمت عملی کو بھی متاثر کیا ہے ۔مسئلہ محض خیبر پختونخواہ تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک اور صوبے یعنی بلوچستان میں بھی ہمیں دہشت گردی کا سامناہے اور اس کے تانے بانے بھی علاقائی ممالک کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔ایک ہی وقت میں دو صوبوں کی سطح پر داخلی انتشار اور دہشت گردی کے حالات ہمیں داخلی محاذ پر جنجھوڑرہے ہیں اور ہمیں اس تناظر میں اپنی سیاسی یا سیکیورٹی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دیناہوگا۔یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے کی اس جنگ کا سارا بوجھ عسکری قیادت پر ڈالا ہوا ہے ۔
ہماری سیاسی قیادت چاہے وہ وفاق یا صوبوں کی سطح پر ہو یا وہ دیگر دو صوبے پنجاب اور سندھ ان معاملات میں کوئی بڑ نہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس جنگ کی سیاسی قیادت میں ان کا کوئی کردار نظر آتا ہے ۔محض بیان بازی کی حد تک ان کا کردار حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اور زیادہ خرابی کی طرف دکھیلتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں اس وقت بھی دہشت گرد نہ صرف منظم ہیں بلکہ کئی مقامات پر ان کی رٹ بھی موجود ہے۔یعنی دو صوبے خیبر پختونخواہ او ربلوچستان دہشت گردی کی فرنٹ لائن بنی ہوئی اور ہم اس وقت بھی داخلی سیاست مین الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس کاہمیں بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ معیشت کی گاڑی کا پہیہ ایک طرف سیاسی اور دوسری طرف سیکیورٹی کے عدم استحکام کی وجہ سے ہمارے مسائل کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔اگرچہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں ن بھی دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا ہے اور مسلسل دہشت گردوں کو عملا ختم بھی کیا جارہا ہے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ دہشت گردمزیدبڑی تعداد میں سامنے آجاتے ہیں۔جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی جس کو افغان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اس پر افغان حکومت کا ہماری حمایت میں نہ کھڑا ہونا اور دوسری طرف پی ٹی آئی کی پالیسی میں بھی ٹی ٹی پی کے بارے میں بالخصوص ان کی صوبائی قیادت میں موجود سیاسی جھول بھی ہمارے لیے مسائل پیدا کررہا ہے ۔ہمیں ہر سطح پر یہ اس بنیادی نقطہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹی ٹی پی اس وقت پاکستان مخالف قوت ہے اور اس کا سدباب کیے بغیر ہم ہم اپنی داخلی سیکیورٹی اور سلامتی کو کسی بھی سطح پر ممکن نہیں بناسکیں گے۔