افغانستان: منشیات اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری کے لیے محض ایک داخلی بحران کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ یہ بتدریج منشیات اور دہشت گردی کے ایسے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جو اپنی سرحدوں سے باہر عدم استحکام برآمد کر رہا ہے۔ یہاں دہشت گرد نیٹ ورکس، منظم جرائم اور غیر قانونی منشیات کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، جن کی بدولت تشدد، انتہاپسندی اور جرائم کو مالی وسائل میسر آتے ہیں۔ 2025 کی ترک منشیات رپورٹ نے اس تلخ حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ افغانستان نہ صرف افیونی منشیات بلکہ خطرناک مصنوعی نشہ آور اشیاء کی عالمی سپلائی چین کا ایک مرکزی ستون بن چکا ہے، جو علاقائی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

ترک منشیات رپورٹ 2025 غیر قانونی منشیات کی منڈی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روایتی نباتاتی منشیات کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات اور نئی نفسیاتی اثر رکھنے والی اشیاء (NPS) تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکی ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے بلقان روٹ پر ایک اہم پل ہے، جب کہ کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی یورپی منڈیوں تک رسائی میں بھی اس کا کردار بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس پورے نیٹ ورک کا اصل سرچشمہ بدستور افغانستان ہی ہے، جہاں سے یہ زہریلا کاروبار خطے اور دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔

رپورٹ افغانستان کو طالبان کی جانب سے 2022 میں پوست کی کاشت اور منشیات پر پابندی کے باوجود ہیروئن اور افیونی منشیات کے بڑے عالمی ذرائع میں شمار کرتی ہے۔ اگرچہ 2023 میں افیون کی پیداوار میں بظاہر 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن یہ کمی مستقل ثابت نہ ہو سکی۔ 2024 میں پوست کی کاشت میں 19 فیصد اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پابندی کا مقصد منشیات کا خاتمہ نہیں بلکہ منڈی کو کنٹرول کرنا تھا۔ اس دوران میانمار (برما) عارضی طور پر سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک ضرور بنا، مگر افغانستان کی گرفت کمزور نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کا منشیات سے متعلق انفراسٹرکچر ختم نہیں ہوا بلکہ مزید منظم ہو گیا۔

دہائیوں کے دوران قائم ہونے والے کاشت، پراسیسنگ، ذخیرہ اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس بدستور فعال رہے۔ اپریل 2022 میں پوست پر پابندی کا مقصد عالمی منڈی میں اضافی ذخائر کو قابو میں لانا اور قیمتوں کو مستحکم کرنا تھا، نہ کہ اسمگلنگ کے نظام کو توڑنا۔ طالبان نے ذخیرہ شدہ افیون کی فروخت کے لیے وقت دے کر ان عناصر کو فائدہ پہنچایا جو منشیات کی ترسیل اور ذخائر پر قابض تھے۔اس پالیسی کے نتیجے میں افیون اور ہیروئن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 2022 میں خشک افیون کی قیمت 110 ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر 780 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس مصنوعی قلت نے منڈی کی طاقت کاشت کاروں سے چھین کر اسمگلرز اور ذخیرہ کرنے والے نیٹ ورکس کے ہاتھ میں دے دی۔ یوں منشیات کی معیشت کمزور ہونے کے بجائے مزید منافع بخش بن گئی۔

اسی دوران افغانستان نے تیزی سے مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین، کی طرف رخ کیا۔ خطے میں پائے جانے والے ایفیڈرا پودے سے ایفیڈرین حاصل کر کے بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات تیار کی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کے مطابق پوست پر پابندی نے میتھ ایمفیٹامین کی تجارت کو روکنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا۔ یورپ، مشرقی افریقہ اور ہمسایہ ممالک میں افغان ساختہ مصنوعی منشیات کی ضبطگی میں نمایاں اضافہ اس خطرناک رجحان کی واضح علامت ہے۔

مصنوعی منشیات کی پیداوار زرعی موسم سے آزاد، کم حجم میں زیادہ منافع بخش اور ذخیرہ و اسمگلنگ کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے زیادہ چیلنج بن چکی ہیں۔ افغانستان نہ صرف ان منشیات کی تیاری بلکہ ان میں استعمال ہونے والے کیمیائی اجزاء کی سپلائی چین میں بھی اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، جس سے اس کا اثر سرحدوں سے باہر تک پھیل جاتا ہے۔ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ایک پیچیدہ نارکو اسٹیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں منشیات دہشت گردی، جرائم اور عدم استحکام کو ایندھن فراہم کر رہی ہیں۔ طالبان کی حکمرانی میں منشیات کی معیشت ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے، زیادہ منظم اور خطرناک انداز میں دوبارہ ترتیب دی گئی ہے۔ منظم قلت، غیر یکساں نفاذ، ذخائر پر کنٹرول اور مصنوعی منشیات میں تنوع کے ذریعے افغانستان آج بھی عالمی منشیات کی رسد اور قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے، اور دنیا کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔

یوں افغانستان آج ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں منشیات، دہشت گردی اور منظم جرائم ایک ہی زنجیر کی کڑیاں بن چکی ہیں۔ طالبان کی جانب سے منشیات کے خلاف اقدامات کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ عملی طور پر افغانستان عالمی منشیات کی منڈی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افیون، ہیروئن اور مصنوعی منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی نہ صرف غیر قانونی معیشت کو سہارا دے رہی ہے بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس اور علاقائی عدم استحکام کو بھی تقویت دے رہی ہے۔

Similar Posts