پچھلے تقریباً ساڑھے تین ماہ سے پاک افغان سرحد بند ہے۔پاکستان سے کوئی تجارتی مال افغانستان جا رہا ہے نہ افغانستان سے کچھ پاکستان آ رہا ہے ۔ پاک افغان سرحد اس لیے بند ہے کہ افغان مقتدر طالبان اپنی زمین سے پاکستان پر دہشت گردوں کے حملوں کو (دانستہ) نہیں روک رہے۔ پاکستان کی بسیار برادرانہ کوششوں کے باوصف افغان طالبان امن کے ڈَھب پر نہیں آ رہے ۔پاکستان نے مخلص برادر اسلامی ممالک کے کہنے پر ، اِسی حوالے سے ، قطر اور ترکیے میں افغان طالبان کے نمائندگان سے مذاکرات بھی کرکے دیکھ لیے ہیں، مگر طالبان کا پرنالہ جہاں پہلے تھا، اب بھی وہیں ہے ۔ وہ پاکستان دشمنی میں سرِ مُو اپنی سوچ اور پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ جب سے افغان طالبان اقتدار میں آئے ہیں، تب سے وہ پاکستانی عناد میں مسلسل آگے ہی بڑھتے دیکھے گئے ہیں ۔ اُن کے ہاتھوں سے اب تک سیکڑوں بیگناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ہر پریس کانفرنس اِس کی شہادت دیتی ہے ۔
افغان طالبان کی متعدد پاکستان مخالف کارروائیوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے تو دوسری طرف افغان طالبان نے تیزی سے ، پاکستان کے مخالف، بھارت سے پینگیں بڑھانے کی دانستہ کوششیں کی ہیں ۔ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ ( مولوی امیر خان متقی) کا دَورئہ بھارت اور بھارت میں اُن کے پاکستان مخالف بیانات اِس کے ثبوت ہیں ۔ چند دن پہلے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا ناظم الامور( نور احمد نور) بھی مقرر کیا ہے ۔اُنھوں نے بھی پاکستان سے بالا بالا بھارت اور افغانستان میں تجارت کی نئی راہیں اور ایونیوز تلاش کرنے کی سعی کی ہے ، لیکن فی الحال اِس کے امکانات مخدوش اور مشتبہ ہیں ۔
افغان طالبان نے بھارت سے مل کر ایران کی چابہار بندرگاہ سے ، تجارت کے حوالے سے، نئی اُمیدیں لگائی تھیں ، لیکن یہ اُمیدیں بھی خاک میں اُس وقت مل گئیں جب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے ۔اب بھارت کو بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ ٹریڈ کے حوالے سے افغانستان کی دستگیری کرے تو کیونکر؟اِس پس منظر میں پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا جائزہ لینے والوں نے ٹرائیکا( پاکستان ، بھارت ، افغانستان) کی تجارت کا تقابلی و تفصیلی جائزہ لیا ہے تو وہ بھی اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’ پاکستان کو بائی پاس کرنا افغانستان اور بھارت کے لیے ناممکن ہے ۔‘‘اور اگر پاکستان کو بائی پاس کر کے ، بذریعہ چا بہار بندرگاہ، افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہو بھی جاتی ہے تو یہ 40 فیصد زیادہ مہنگی ہونے کے ناتے ویسے بھی دونوں ملکوں کے ٹریڈرز کی کمر توڑ دے گی ۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے نادر جغرافیے سے نواز رکھا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر نہ تو افغانستان و بھارت میں سستی و سہل تجارت ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کے توسط کے بغیر بھارت کسی بھی طرح، وسط ایشیا کی منڈیوں تک اپنے تجارتی پاؤں پھیلا سکتا ہے ۔ مگر افغان طالبان حکام اور اُن کے ’’بہی خواہوں‘‘ کو غلط فہمی ہے کہ وہ پاکستان کے تعاون اور درمیان داری کے بغیر بھی بھارت سے بغلگیر ہو سکتے ہیں ۔ افغان طالبان حکام اِس بارے متعدد بیانات بھی دے چکے ہیں ۔ پچھلے تین ، ساڑھے تین ماہ کے دوران اُنھوں نے اِس ’’غلط فہمی‘‘ کی آزمائش کرکے دیکھ بھی لی ہے ، لیکن حسبِ خواہش کامیاب ( فی الحال) نہیں ہو سکے ہیں ۔
طالبان کو پٹّی پڑھانے والے گروہ مگر مسلسل انھیںیہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ’’جب سے پاک افغان سرحد مقفّل ہُوئی ہے، اِس سے پاکستان و پاکستانی تاجروں ہی کو نقصان اُٹھانا پڑ رہے ہیں ، افغانستان و افغان تاجروں کا تو بال بھی بیکا نہیں ہو رہا ہے ۔‘‘ افغان میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی ایسی ہی آوازیں ہیں ۔ پاکستان میں ، بد قسمتی سے ، وہ عناصر جنہیں پاکستان سے زیادہ افغان طالبان کے مفادات زیادہ عزیز ہیں ، وہ بھی اِن ’’خبروں‘‘ کو بڑھاوا دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستانی تاجر زیادہ خسارے کا شکار بن رہے ہیں، اس لیے پاکستان کو کسی تاخیر کے بغیر پاک افغان سرحد ( یک طرفہ طور پر ہی سہی) کھول دینی چاہیے ۔ یہ خیال حقائق کے منافی ہے کیونکہ اعداد وشمار دیکھنے اور سُننے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان اور پاکستانی تاجروں کو کوئی خاص نقصان نہیں ہو رہا ۔
ہمارے بعض معاصر میں مگر ایسی رپورٹیں بھی شائع ہو رہی ہیں جو اِس امر کی’’ مظہر‘‘ ہیں کہ پاکستانی تاجروں کو بھی کم نقصان نہیں پہنچ رہا ۔ مثال کے طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش اور ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے کارن پاکستان کی ’’ترشاوہ معیشت‘‘( Citrus Economy) خاصی متاتر ہوئی ہے ۔ بقول شخصے ، پاک افغان سرحد کی بندش سے قبل پاکستان کا کینو ، بذریعہ افغانستان ، وسط ایشیا، رُوس اور یوکرائن تک ، جلد اور سستا ، پہنچ جاتا تھا ۔ مگر اب صورتحال ماضی جیسی نہیں ہے ۔ پہلے پاکستان سے مذکورہ منڈیوں میں کینو زیادہ سے زیادہ 9دنوں میں پہنچ جایا کرتا تھا ۔ مگر اب اِس میں25دن لگ رہے ہیں ۔ اِس پر اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں ۔
کینو برآمد کرنے والے کئی تاجر یہ استدلال بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر امریکا نے بھی اقدام کر ڈالا تو کیا ہوگا ؟ امریکا نے اعلان کررکھا ہے کہ جو بھی ملک ایران سے تجارت کرے گا، اُس پر اضافی25فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کے راستے تجارت کرنے والے پاکستانی تاجر تو ’’مارے‘‘ جائیں گے ۔
حکومت نے اعلان تو کیا تھا کہ وہ ’’افغانستان کا متبادل‘‘ دیں گے ، مگر ابھی تک اِس اعلان میں عمل کا رنگ نہیں بھرا جا سکا ۔ پچھلے برسوں میں کینو کی برآمد سے پاکستان ہر سال450ملین ڈالر سے زائد کماتا رہا۔ ۔ جُوس بنانے والی فیکٹریوں کو پہلے جو کینو3ہزار روپے فی من فروخت ہوتا تھا، اب اِس کی قیمت1200روپے فی من لگائی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ تقریباًیہی حال افغانستان سے پاکستان آنے والی سبزیوں اور پھلوں کا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اس میں کس حد تک سچائی ہے۔ جہاں تک سبزیوں کا تعلق ہے تو پاکستان کی منڈی میں یہ وافر موجود ہیں اور ان کے نرخ بھی مناسب ہیں، کینو بھی زیادہ تر مڈل ایسٹ میں جاتا ہے ، اس لیے افغانستان کی سرحد بند ہونے سے پاکستان کی معیشت کو کسی بڑے خسارے کی باتیں محض باتیں ہی ہیں۔