بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلمانوں اور مسیحی برادری کو مختلف علاقوں میں تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ریاست اوڑیسہ میں انتہا پسند ہندو افراد نے ایک چرچ میں داخل ہو کر مسیحی شہریوں کو عبادت سے روک دیا اور انہیں ہراساں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند عناصر نے چرچ میں عبادت کی صورت میں مسیحی خاندانوں کو گاؤں سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
دی وائر کے مطابق واقعے کے اگلے روز ایک انتہا پسند گروہ نے حملہ کر کے مسیحی برادری کے دو نوجوانوں کو شدید زخمی کر دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چند ہفتے قبل ایک پادری پر تشدد کیا گیا اور اسے تذلیل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک حالیہ بیان پر بھی تنقید کی جا رہی ہے، جسے بعض حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد بھارت میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہا ہے اور داخلی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مستقبل میں علیحدگی پسند رجحانات کو بھی تقویت دے سکتی ہیں۔