علینہ نے کہا کہ یہ ویڈیو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انسٹاگرام پر جاری وضاحتی پیغام میں علینہ عامر نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے اس معاملے کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ خود ذہنی طور پر اس سے زیادہ متاثر نہیں تھیں، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ مبینہ ویڈیو سیکڑوں پوسٹس میں بار بار شیئر کی جا رہی ہے تو انہیں لگا کہ اب بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
Famous tiktoker #AlinaAmir shared her response on her deep fake AI generated leak video, she has praised CM Punjab @MaryamNSharif and CCD on its performance against woman harassment pic.twitter.com/kEWglFGqdo
— Showbiz & News (@ShowbizAndNewz) January 25, 2026
انہوں نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ کسی بھی مواد کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی اہم ہے۔ علینہ عامر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دوسروں کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اس لیے کم از کم اتنی احتیاط تو کی جائے کہ جو ویڈیو یا خبر آگے بڑھائی جا رہی ہے وہ اصل ہے یا نہیں۔
اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی اپیل کی کہ ڈیپ فیک یا مصنوعی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ خصوصاً لڑکیوں کو اس طرح کی مہمات سے تحفظ مل سکے۔
آخر میں علینہ عامر نے اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص اس جعلی ویڈیو کے بنانے والے یا پھیلانے والے سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے تو اسے نقد انعام دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف مجرموں تک پہنچنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی بھی کرنا ہے۔