مودی سرکار کی ناقص کارکردگی؛ کولکتہ میں 21 افراد جل کر راکھ بن گئے

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں گوداموں میں لگنے والی خوفناک آگ 3 دن گزرنے کے باوجود بجھائی نہ جا سکی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 26 جنوری کو کولکتہ کے علاقے آنند پور کے دو گوداموں میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی تھی جب وہاں 50 سے زائد افراد موجود تھے۔

بھارتی ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کا عملہ خوفناک آگ کو بجھانے میں بری طرح ناکام رہا اور آگ پر قابو پانے میں 36 گھنٹے لگ گئے۔

امدادی کاموں کے دوران گودام کے راکھ کے ڈھیر سے 21 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 28 افراد تاحال لاپتا ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں گوداموں کے اندر کام کرنے والے مزدور شامل ہیں جن کے نکلنے کے لیے کوئی ہنگامی راستہ بنایا گیا تھا نہ آگ بجھانے کے آلات موجود تھے۔

چوروں سے بچنے کے لیے گودام کے پچھلے دروازوں کو بند رکھا جاتا تھا اس لیے جب مزدور خارجی دروازے پر لگی آگ کو دیکھ کر بھاگے تو خارجی درواز بند پایا۔

زیادہ لاشیں بھی اسی خارجی دروازے پر ملیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجبور و بے کس مزدور زندگی کی آس میں ایندھن بن گئے۔

پولیس نے ایک گودام کے مالک کو گرفتار کرلیا جہاں سے آگ لگنا شروع ہوئی تھی جب کہ دوسرے گودام کی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے 3 افراد کے ورثا کو 10، 10 لاکھ بھارتی روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔

گودام انتطامیہ نے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے بچوں کی تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔

 

Similar Posts