افغانستان کے راستے سے ایتھنز پہنچ گیا۔ وہاں ایک بحری جہاز پر معمولی سا کام کرنے لگ گیا۔ مگر تھوڑے عرصے کے بعد‘ ہی اسے کام سے فارغ کر دیا گیا۔ واپس پاکستان آ گیا۔ دوسری بار اس نے پھر قسمت آزمائی کی اور یونان چلا گیا۔ ویزہ ختم ہونے پر ‘ مجبوراً وطن واپس آنا پڑا۔ تیسری مرتبہ ایمسٹرڈیم پہنچا۔ اور دوبارہ ایک بحری جہاز پر کام کرنے لگ گیا۔ آبی جہاز‘ مختلف شہروں کی بندرگاہوں پر رکتا تھا۔ 1972 میں علی اکبر‘ Roeunنام کے قصبہ میں لنگر انداز ہوا۔ وہاں سے پیرس چلا گیا۔
یہاں آ کر ‘ مفلوک الحالی اس کا پیچھا کرتی رہی۔ پیرس میں بھی ادنیٰ قسم کے کام کرتا رہا۔جو پیسے کماتا پنڈی میں اپنے خاندان کو بھیج دیتا۔ خود‘ تکلیف میں زندگی بسر کرتا رہا۔ کبھی پلوں کے نیچے پناہ لے لیتا۔ کبھی کسی سرائے کے اس کمرے میں رات گزار دیتا‘ جہاں درجنوں مزید لوگ بھی سو رہے ہوتے تھے۔ ابھی قسمت کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہوئی تھی۔ 1973 میں اسے ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والا طالب علم ملا جو اخبار بیچتا تھا۔ علی اکبر نے زندگی میں کبھی اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا تھا۔ مگر اس نے اخبار فروخت کرنے شروع کر دیئے۔ روز‘ پچاس ساٹھ یا کبھی کبھی سو کے لگ بھگ اخبار اٹھاتا تھا۔ پیرس کے سب سے امیر علاقے میں بلند آواز سے خبریں پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔
ابتدائی دور میں ‘ وہ ’’چارلی ایبڈو‘‘ اخبار بیچتا تھا۔ اس کا انداز حد درجہ منفرد تھا۔ بلند آواز سے‘ نہ صرف خبریں پڑھتا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ‘ مزاحیہ فقرے بھی کستا رہتا تھا۔ کمال کی بات یہ تھی کہ اکبر نے اخبار بیچنے کے لیے جو علاقہ منتخب کیا تھا وہاں‘ بہترین کیفے‘ ریسٹورنٹ اور دکانیں تھیں۔ جب یہ کام شروع کیا‘ تو پیرس میں چالیس اخبار فروش تھے مگر اس جیسی آواز میں کوئی بھی اخبار نہیں بیچتا تھا۔ بہت جلد‘ وہ اس علاقے کا حصہ بن گیا۔ فرانسیسی زبان سیکھ لی۔ اس سڑک پر‘ سیاست دان‘ کاروباری اشخاص‘ طلباء و طالبات‘ سرکاری ملازم‘یعنی ہر طبقہ فکر کے لوگ گزرتے رہتے تھے۔ اس سے اخبار خریدتے رہتے تھے۔
یہ وہی علاقہ تھا جہاںJean Paul Satreاور Simone de Beavoir جیسے فلسفی بھی آتے رہتے تھے۔ آپ حیران ہوں گے کہ‘ اس کے اخبار کے خریداروں میں فرانس کے صدر بھی شامل تھے۔ فرانس کے موجودہ صدر‘ میکرون ‘ زمانہ طالب علمی میں اسی جگہ سے روز گزرتے تھے۔ کبھی کبھی علی اکبر سے اخبار بھی خرید لیتے تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ علی اکبر کو اخبار بیچتے بیچتے پچاس برس ہو گئے۔ وہ اس علاقے کا ایسا حصہ بن گیا جس کے بغیر‘ پورا علاقہ بنجر تھا۔
2025 میں ‘ اکبر پورے پیرس میں واحد اخبار فروش رہ گیا۔ ایک دن حسب معمول بلند آواز میں خبریں پڑھ رہا تھا۔ پیرس کی انتظامیہ کا ایک سینئر افسر اس کے قریب آیا ۔ اس کا نام پوچھا۔ اگلی باتیں‘ بالکل غیر معمولی تھیں۔ بتایا گیا کہ اکبر کو فرانسیسی حکومت نے ‘ ملک کا سب سے بڑا سویلین ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ایوارڈکا نام National Order of Merit تھا۔ افسر نے بتایا کہ وہ پیرس کی زندگی کو بہتر بنا رہا ہے۔ پچاس برس سے ایک نایاب کام کر رہا ہے۔
شہر کی سماجی زندگی بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ خدمات ہیں۔ اکبر کو شروع شروع میں یقین ہی نہیں آیا کہ فرانس کی حکومت ‘ اس کے کام کی اتنی قدر کرے گی۔ مگر جب ‘ یہی خبر میڈیا پر آنی شروع ہوئی‘ تو اسے واقعی یقین آ گیا۔ یہ اس کی زندگی کا خوبصورت ترین لمحہ تھا۔ آج سے دو دن قبل اہلسے محل میں ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں فرانسیسی حکومت کے تمام وزراء اور سینئر ترین افسر موجود تھے۔ اکبر کے اہل خانہ کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔اس پر وقار تقریب میں فرانس کے موجودہ صدر‘ میکرون نے علی اکبر کو حکومت کے سب سے بیش قیمت اور اعلیٰ سویلین ایوارڈ سے نوازا۔ میکرون نے تقریر میں کہا‘ کہ آپ پیرس کی اصل آواز ہیں۔ اور ہم تمام لوگ‘ آپ کی تہہ دار آواز کے بغیر ‘ اپنے آپ کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ میکرون نے علی اکبر کی دشوار ترین زندگی کا بھی بھرپور احاطہ کیا۔ پنڈی سے لے کر پیرس تک کے سفر کو سراہا ۔ اور یہ بھی کہا‘ کہ آپ فرانس کے معاشرے میں جس طرح سما چکے ہیں، یہ تمام یہاں باہر سے آ کر رہنے والوں کے لیے سبق ہے۔
ہمیں آپ کی خدمات پر فخر ہے۔ تقریب کے بعد‘ جب ایک براڈ کاسٹر نے اکبر سے پوچھا کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ تو جواب میں کہنے لگا کہ اس کی ساری زندگی کے زخموں پر مرہم رکھ دیا گیا ہے۔ بھول گیا ہے کہ کس مشکل بلکہ عذاب سے گزر کر‘ یہاں تک پہنچا ہے۔ یہ بھی کہنے لگا کہ اب ستر برس سے زیادہ عمر کا ہو چکا ہے مگر مرتے دم تک اسی طرح اخبار بیچتا رہے گا۔ آج بھی پیرس کے مخصوص علاقہ میں روزانہ بلاناغہ ‘ علی اکبر کی آواز گونجتی ہے اور مسلسل اخبار فروخت کر رہا ہے۔
یہ واقعہ ‘ہمیں بہت کچھ سمجھانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اپنے اردگرد غور سے مختلف لوگوں کو دیکھئے ۔ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں یا کام کرتے ہیں یا کسی بھی مخصوص راستے کو استعمال کرتے ہیں۔ وہاں روزانہ‘ آپ کو درجنوں لوگ‘چھوٹے بڑے کام کرتے نظر آئیں گے۔ کوئی فروٹ بیچ رہا ہو گا تو کوئی ریڑھی پر سامان لگا کر بیٹھا ہو گا۔اگر کسی محلے میں رہتے ہیں تو روزانہ کی بنیاد پر متعدد آدمی صدا لگا کر مختلف اشیا بیچتے نظر آئیں گے۔
سبزی کی ریڑھی سے لے کر ‘ بچوں کے کھلونوں کے چلتے پھرتے اسٹال د کھائی دیں گے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ لوگ سماج کے لیے کتنا اہم کام کر رہے ہیں۔ اورہماری زندگی سے اگر یہ لوگ نکل جائیں تو ہمارے لیے ایسی تکالیف کھڑی ہو جائیں گی‘ جن کا شاید ہم گمان بھی نہیں کر سکتے۔ ذرا سوچیے کہ سبزی کی ریڑھی والا‘ گھر کے سامنے آ کر جب صدا بلند کرتا ہے تو خواتین‘ کتنی آسانی سے سبزی خرید لیتی ہیں۔ انھیں کسی قسم کی دقت نہیں ہوتی۔ اگر خرید و فروخت کا یہ سلسلہ موقوف ہو جائے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ‘ کہ ہم میں سے اکثر انسانوں کی زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے ‘ کہ ہم شخصی اور حکومتی سطح پر ان لوگوں کی کسی قسم کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ ان کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ پاکستان کے ہر شہر‘ قصبہ اور گاؤں میں ان گنت افراد ‘ کچرہ اٹھتے ہیں۔ گلیاں صاف ستھری رکھتے ہیں۔
اگر یہ صرف چند دن کے لیے کام کرنا بند کر دیں تو پورا علاقہ تعفن کا شکار ہو جائے گا۔ مگر ان کی کون قدر کرتا ہے؟ کوئی بھی نہیں!دیکھتے آئے ہیں کہ ہر حکومت دھینگا مشتی کے لاحاصل اور نہ ختم ہونے والے معاملات میں اتنی الجھی رہتی ہے کہ اس کی توجہ کا مرکز‘ صرف اور صرف اپنی حکومت کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت ہو یاکوئی بھی ماضی کی سرکار ہو، عام آدمی کی بھلائی ‘ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ عام آدمی اور حکومت میں اجنبیت خوفناک حد تک بڑھتی چلی آ رہی ہے۔ بس ایک ظلم‘ جبر اور پروپیگنڈے کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے جو ستر برس سے جاری ہے۔ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ گمان یہی ہے کہ ابتر معاملات ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ بہتری کے امکانات کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے ۔ کیا ہمارے کسی وزیراعظم ‘ وزیراعلیٰ یا صدر نے عام آدمی کی محنت کو سراہا ہے؟ کم از کم میرے علم میں تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے۔ یہاں تو خوف کے ذریعے لوگوں پر حکومت کرنے کا چلن ہے جو پختہ سے پختہ تر ہوتا جا رہا ہے۔ مگر سوچیے کہ زندہ قوموں کے حکمران ‘ اپنے عام آدمی کے ساتھ کتنی بہتر طرز کے روابط رکھتے ہیں۔پوری سرکاری مشینری ‘ اس نکتہ پر یکسوئی سے کام کرتی نظر آتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کیوں ترقی کر رہے ہیں؟ کیونکہ ان کی ترجیحات میں اپنے لوگوں کی حوصلہ افزائی اور بہتری کے معاملات اولین درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے گلی محلوں میں ان گنت علی اکبر جیسے لوگ کام کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر کوئی بھی ان کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ نظر اٹھاکر دیکھتا تک نہیں ہے۔
دراصل ہمارے مقتدر طبقے کو تو اپنے علاوہ ‘ تمام لوگ‘ کیڑے مکوڑے معلوم پڑتے ہیں۔ جن کو کسی بھی وقت ‘ پیروں تلے کچلا جا سکتا ہے۔ ان پر زندگی تنگ کی جا سکتی ہے۔یہاں کوئی بھی اہم حکومتی رکن‘’’علی اکبر‘‘ جیسے محنت کش انسان پر نظر نہیں ڈالتا۔ پیرس کے اخبار فروش نے اچھا کیا‘ کہ ایک مہذب معاشرے میں ہجرت کر کے آباد ہو گیا۔ یہاں نہیں‘ تو وہاں تو اس کی بلند ترین سطح پر پذیرائی کی گئی ہے۔ مگر سوال ہے کہ کیا ایسا واقعہ ہمارے ملک میں ہو سکتا ہے؟ شاید کبھی نہیں!