تفصیلات کے مطابق پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دی تھی، اب ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہی ٹیم ٹرافی پر قبضہ یقینی بنانے کا عزم لیے حصہ لے گی،جمعرات کو میزبان ٹیم کو شاندار اسپن بولنگ نے فتح دلائی،بولرز نے حریف بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا، نہ صرف رنز کی رفتار پر بریک لگائی بلکہ اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔
دوسرے میچ میں بھی پچ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، خشک اور سلو پچ سے اسپن بولرز کو مدد ملے گی،اس کا فائدہ وہی ٹیم اٹھائے گی جو اسپن کو بہتر انداز میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، پاکستان کا آغاز اچھا تھا مگر پھر مڈل اور لوئرآرڈر بیٹرز تیزی سے رنز نہیں بنا سکے تھے، اب بیٹنگ لائن سے زیادہ بہتر کھیل کی توقع ہے، ٹیم مینجمنٹ بعض تبدیلیوں پر بھی غور کر رہی ہے، شاہین آفریدی کی جگہ نسیم شاہ کو میدان میں اتارنے پر غور ہونے لگا۔
دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم کے لیے ہفتے کا میچ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، سیریز میں واپسی کے لیے ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی، خاص طور پر اسپن بولنگ کے خلاف حکمت عملی کو موثر بنانا ضروری ہے، پہلے ٹی ٹوئنٹی میں صائم ایوب نے جارحانہ بیٹنگ کے بعد عمدہ بولنگ سے فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب پھر ان سے ویسے ہی کھیل کی توقع ہے۔
کپتان سلمان علی آغا نے ون ڈائون پوزیشن کو مستقل طور پر اپنا لیا ہے، وہ جارحانہ بیٹنگ کی کوشش کریں گے، شاداب خان اور محمد نواز بھی ایک بار پھر اسپن بولنگ کا جادو جگانے کے لیے تیار ہیں، آسٹریلوی ٹیم بھی سیریز برابر کرنے کا عزم لیے میدان میں اترے گی، اسپنر ایڈم زیمپا سے ایک بار پھر عمدہ کارکردگی کی توقع ہے،بیٹرز کو اسپنرز کا مقابلہ ڈٹ کر کرنا ہوگا، پہلے میچ کی طرح ہفتے کو بھی اسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد میں آمد متوقع ہے۔
سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، قذافی اسٹیڈیم اور اطراف کے علاقوں میں اضافی پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اسٹیڈیم میں داخلے کے لیے سخت چیکنگ کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔