’’میرا لیاری‘‘ فلم علاقے کے مثبت چہرہ اجاگر کرے گی، شرجیل انعام میمن

صوبائی وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے ’’میرا لیاری” فلم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس فلم میں لیاری کے اصل چہرے کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس کی ریلیز کا فیصلہ متعلقہ بورڈ کرے گا۔

کراچی میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کراچی فلم اسکول کورنگی کاز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبا کی تیار کردہ فلموں کی اسکریننگ دیکھی اور ابھرتے ہوئے فلم سازوں سے تفصیلی گفتگو کی۔

اس موقع پر فلم سازی سے وابستہ طلبا و طالبات نے اپنے تخلیقی منصوبوں سے متعلق آگاہ کیا، جس پر صوبائی وزیر نے ان کی کاوشوں کو سراہا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ وہ دوسری مرتبہ کراچی فلم اسکول آئے ہیں اور یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو فلم سازی میں ایک سالہ ڈپلومہ فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا مقصد نوجوانوں کو ایسا مضبوط پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ فلم اور ڈرامے کے ذریعے اپنا کیریئر بنا سکیں اور دنیا تک مثبت پیغام پہنچائیں۔

انہوں نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو درپیش مشکلات پر بھی بات کی اور سینما گھروں کے خاتمے اور معیاری مواد کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ماضی میں تقریباً ہر شہر میں سینما موجود ہوتے تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ پلازوں میں تبدیل ہو گئے، جس سے ناظرین کے لیے تفریح کے مواقع محدود ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل جو مواد تیار کر رہی ہے، سندھ حکومت اس کی بھرپور معاونت کرے گی تاکہ مقامی فلم انڈسٹری کو نئی جان دی جا سکے۔

شرجیل میمن نے حکومت سندھ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ فلم فیسٹیولز میں معیاری اسکرپٹس کی صورت میں اخراجات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے حکومت سندھ کی فلم ’’میرا لیاری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس فلم میں لیاری کے اصل چہرے کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس کی ریلیز کا فیصلہ متعلقہ بورڈ کرے گا۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر مقابلہ کیا ہے، اس کے باوجود ملک کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا، تاہم پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی طاقت ہے اور یہاں سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلموں کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ فلم اسکول کے طلبا کی فیس میں پچاس فیصد کمی کے لیے حکومت سے بات کریں گے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ادارے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ نوجوانوں کو جدید تربیت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اسی ادارے سے ایسے طالب علم سامنے آئیں گے جو عالمی اعزازات حاصل کریں گے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے دونوں کی ذمے داری ہے کہ وہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو سہارا دیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور ہمارے ٹی وی چینلز پڑوسی ملک میں بھی دیکھے جاتے ہیں، اس لیے ایسا معیاری مواد تیار کیا جانا چاہیے جو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کرے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ لاہور، بلوچستان، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں فلم انسٹی ٹیوٹس قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو مزید مواقع میسر آسکیں۔

Similar Posts