ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کے لیے 48 گھنٹوں میں ایران پر حملہ ہوسکتا ہے: سربیا کے صدر کا دعوٰی

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے کہا ہے کہ انہیں آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ایران پر فوجی حملہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کی وجہ جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات کا اجراء ہے، جس سے امریکا کے اہم فیصلوں میں تیزی آ سکتی ہے۔

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی آئندہ 48 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اس ممکنہ امریکی حملے کو حال ہی میں جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز سے جوڑا اور کہا کہ جب بھی اس طرح کے بڑے اسکینڈلز سامنے آتے ہیں تو اکثر دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کے لیے آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران پر حملہ ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مزید بڑی پیش رفت بھی سامنے آئے گی۔

سربیا کے صدر کا یہ انٹرویو سربین زبان میں نشر ہوا تھا، جس کا مفہوم ترجمے کے ساتھ روسی میڈیا نے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر ماضی کے ’مونیکا لیونسکی اسکینڈل‘ کا بھی حوالہ دیا۔

واضح رہے کہ مونیکا لیونسکی اسکینڈل امریکا کا مشہور سیاسی اور جنسی اسکینڈل تھا جو 1998 میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ جس میں اس وقت کے امریکی صدر بِل کلنٹن اور وائٹ ہاؤس کی 22 سالہ انٹرن مونیکا لیونسکی کے درمیان غیر ازدواجی نامناسب تعلقات کا انکشاف سامنے آیا تھا۔

امریکی صدر بِل کلنٹن نے ابتداء میں ان تعلقات کی تردید کی تھی۔ بعد ازاں ٹھوس ثبوت کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے نامناسب تعلقات کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد امریکی ایوانِ نمائندگان نے ان کا مواخذہ کیا تاہم سینیٹ نے انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا تھا۔

چند میڈیا رپورٹس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ سربیا کے صدر نے امریکا کی ماضی کی اُن فوجی کارروائیوں کا تذکرہ کیا ہے جو سابق امریکی صدر بِل کلنٹن کے دورِ صدارت میں یہ اسکینڈل سامنے آنے کے دوران کی گئی تھیں۔

اگست 1998 میں بل کلنٹن کے مواخذے کے دنوں میں ہی امریکا نے آپریشن ’انفائنائٹ ریچ‘ کے تحت افغانستان اور سوڈان پر کروز میزائل داغے تھے، جن میں خرطوم کا الشفاء دوا ساز پلانٹ بھی شامل تھا جس پر امریکا نے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
سربیا کے صدر کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں وہ مسلسل ایران کو حملے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں اور دنیا بھر کے میڈیا کی نظریں بھی اسی کشیدگی پر مرکوز ہیں۔

Similar Posts