ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جنگ اور فوجی تنصیبات کے حوالے سے حالیہ اشتعال انگیزی نئی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر انہوں اس وقت جنگ شروع کی تو یہ خطے کی جنگ ہوگی، دھمکیاں اور فوجی طاقت کے مظاہرے ایرانی قوم کو خوف زدہ نہیں کرسکتے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ بعض اوقات وہ جنگ کے بارے میں کہتے ہیں، طیاروں اور جنگی بیڑوں کی باتیں کرتے ہیں یہ سب کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ امریکی عہدیدار ماضی میں ایران کو مسلسل دھمکاتے رہے ہیں کہ جنگ سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ان چیزوں سے خوف زدہ نہیں ہوگی، ایران کے لوگ اس طرح کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرے گا لیکن جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ہم جنگ شروع کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور ہم کسی ملک پر حملہ کرنا نہیں چاہتے لیکن ایرانی قوم ایسے لوگوں کو سخت جواب دے گی جو حملہ کرتے ہیں اور ہراساں کرتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں حالیہ احتجاج کو حکومت پر قبضہ کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد ملک کو چلانے والے حساس اور اہم مراکز کو تباہ کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشنز، حکومتی مراکز، پاسداران انقلاب کی تنصیبات، بینکوں اور مساجد اور یہاں تک کہ قرآن پاک کو بھی نذر آتش کردیا لیکن اس کوشش کو بالآخر ختم کردیا گیا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کے لوگوں نے امریکی-صہیونی بغاوت کی آگ کو راکھ میں تبدیل کردیا، جس طرح انہوں نے پچھلی سازشوں کو شکست دی تھی اور قوم مستقبل میں بھی اس قسم کی کوششوں کا کامیابی سے مقابلہ کرے گی۔