دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ دن پاکستان اور اقوام عالم کو آبی ذخائر کے دیرپا تحفظ اور مؤثر انتظام کے عزم کے اعادہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال یہ عالمی دن ’’آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری‘‘ کے نہایت موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جو ہمیں آبی ذخائر کے ثقافتی پس منظر اور ان کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 1971ء کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے، جس کے تحت نوع انسانی کے لیے آبی ذخائر کے استعمال اور ان کے وسائل کے تحفظ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ عالمی دن اسی معاہدے کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے آبی ذخائر، بشمول جھیلیں اور گلیشیئرز، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو نظام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تغیر سے بچاؤ اور پانی کے مؤثر نظم و نسق کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے آبی ذخائر ذریعہ معاش اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں جب کہ آبی ذخائر میں کمی لوگوں کے روزگار میں کمی، قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور سیلاب و خشک سالی جیسی صورتحال کا سبب بن سکتی ہے۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تغیر سے بچاؤ کے لیے ایک ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انڈس واٹرز ٹریٹی 1960 کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہوئے بھرپور انداز میں مسترد کرتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدیدِ عہد کریں کہ ہم نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی آبی ذخائر کو اپنا بیش قیمت قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان ممالک کے درمیان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔