ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے پہلی نظر میں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ جیسے چاند نے خود کو کئی حصوں میں تقسیم کر لیا ہو، کیونکہ اس کے گرد روشن اور چمکتی ہوئی شکلیں نمودار ہو رہی تھیں۔ آسمان کے نظاروں کے شوقین افراد یہ غیر معمولی اور دلکش منظر دیکھ کر رک گئے اور دیر تک آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔
آخر یہ “چار چاند” کیسے نظر آئے؟
یہ حیرت انگیز منظر دراصل ایک قدرتی مظہر ہے جسے پیرسیلینی (Paraselenae) کہا جاتا ہے، جسے عام زبان میں مون ڈاگ یا نقلی چاند بھی کہتے ہیں۔ یہ کوئی خلائی واقعہ نہیں بلکہ موسم سے جڑا ایک optical illusion ہے۔
Four moons appear over Russia’s St. Petersburg
The spectacle, known as a paraselene, was created by moonlight bending through ice crystals in the frosty atmosphere pic.twitter.com/J5C5h4uDx8
— RT (@RT_com) February 1, 2026
یہ منظر اُس وقت بنتا ہے جب چاندنی، آسمان میں موجود نہایت باریک اور اونچائی پر پھیلے بادلوں سے گزرتی ہے جو برف کے ننھے ننھے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
یہ بادل، جنہیں سیروس یا سیروسٹریٹس کہا جاتا ہے، چپٹے اور چھ کونوں والے برفانی ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب چاندنی ان ذرات سے مڑتی ہے تو چاند کے دونوں جانب روشن دھبے بن جاتے ہیں، جو یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے آسمان پر ایک نہیں بلکہ کئی چاند جگمگا رہے ہوں۔