شہرت اور رسوائی جڑواں بہنیں

باقی صدیقی کا شعر ہے

کچھ ایسی بات اڑی ہے ہمارے گاؤں میں

کہ چھپتے پھرتے ہیں ہم’’بیریوں‘‘ کی چھاؤں میں

جس طرح غم اور خوشی جڑواں بہنیں ہیں اسی طرح یہ ’’شہرت‘‘ اور’’رسوائی‘‘ بھی جڑواں بہنیں رہیں۔بلکہ اتنی مشابہ اور ہم شکل ہیں کہ اکثر لوگ ان کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں کرپاتے اور اسی بات نے بیچارے ہمارے یار مرحوم خاطر غزنوی کو بہت پریشان کیا ہوا تھا کہ ؎

میں اسے ’’شہرت‘‘ کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کچھ لوگ اتنے’’ذہین و فتین‘‘ ہوتے ہیں بلکہ ’’موجد‘‘ اور اختراع ساز ہوتے ہیں کہ ’’رسوائی‘‘ کو بھی شہرت بناسکتے ہیں بلکہ بنا ’’لیتے‘‘ ہیں۔جیسے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ہاں ہراسانی، ہراسگی اور ہراسمنٹ کا’’سیزن‘‘ چلا تھا اور جسے پڑوسی ملک کے مقام مومبائی بمقام گالی وڈ میں ’’می ٹو‘‘ کا پرکشش نام دیا گیا تھا۔ یہ موسم نہ چلا ہوتا تو ہمیں ہرگز پتہ نہ چلتا کہ ’’ایشایشع‘‘فیشا فشیح کون ہے اور ڈلی ڈفر کون ہے۔ چنانچہ سنا ہے کہ مومبائی بمقام گالی وڈ میں ملک بھر کی سپوتنیاں ماچس کی ڈبیہ کو اپنا ’’سوٹ‘‘ بناکر آتی ہیں اور ’’می ٹو‘‘ کی برکت سے مالا مال ہوکر جاتی ہیں۔اکثر ایسے مکالمات بھی سننے میں آتے ہیں کہ اری نیییا،ویہا یا جیرہ۔تمہیں ابھی تک کوئی ’’بریک تھرو‘‘ نہیں ملا۔نہیں ملنے ہی والا ہے ایک’’می ٹو‘‘ ہونے دو یا ایک اچھے سے ’’می ٹو‘‘کا انتظار ہے۔دعا کرو کوئی ڈھنگ کا می ٹو مل جائے یا کیا کروں اچھا سا ’’می ٹو‘‘ نہیں مل رہا یا کیا کروں یہ انانا ،منانا،بیتا یا شبیتا بڑی لکی ہیں کم بخت کو بہت زبردست’’می ٹو‘‘ مل گیا۔یا فلاں تو کوئی چیز ہی نہیں تھی لیکن ’’می ٹو‘‘ اچھا مل گیا۔ اسے تو اداکاری کی الف ب بھی نہیں آتی لیکن می ٹو کی برکت سے ہیروئن بن گئی۔مطلب یہ کہ رسوائی اور شہرت میں پیاز کی جھلی جتنا بھی فرق نہیں۔پلک جھپکنے میں ’’یہ‘‘۔’’وہ‘‘ ہوسکتی یا وہ ’’یہ‘‘ میں ڈھل سکتی ہے۔یعنی جس چیز سے لوگ بچنے کی کوشش کرتے تھے آج آگے بڑھ بڑھ کر اسے گلے لگانے کو بے قرار رہتے ہیں اور ایک پرانی مردہ کہاوت زندہ بلکہ پائندہ ہوگئی ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔اور نام ہی تو سب کچھ ہے نام مل جائے تو ’’دام‘‘ ہی دام دونوں ہی دام۔ وہ بھی جو پرندوں کو پکڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یعنی

دام ہمرنگ زمیں بود گرفتار و شدم

اور وہ’’دام‘‘ بھی جسے کیش و دعشق کہتے ہیں

درم ودام اپنے پاس کہاں

چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

اور یہ دونوں’’ دام‘‘ ان دونوں جڑواں بہنوں شہرت اور رسوائی کے غلام بے دام ہیں یا ہوگئے ہیں۔  لیکن اگلے زمانوں میں رسوائی واقعی رسوائی ہوتی تھی شہرت نہیں بنتی تھی۔اور یہ بھی کہ جب ایک دفعہ چمٹ جاتی تھی تو چھٹتی نہیں تھی نام سے یہ کافر لگی ہوئی۔کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب سیاست، جمہوریت اور مذہب کی اس عظیم اور بین الاقوامی تجربہ گاہ پاکستان میں ’’بنیادی جمہوریت‘‘کا تجربہ لانچ ہورہا تھا جو اس زمانے کے آئن سٹائن ایوب خان نے ایجاد کیا تھا۔

جس میں صرف یونین کونسلر ہی ایم این اے ،ایم پی اے کے لیے ووٹ دیتے تھے اور نوٹ پاتے تھے۔ گنے چنے ووٹ تھے اس لیے امیدوار اپنی گاڑی میں نوٹوں کے بنڈل’’سٹپل‘‘ نکالے بغیر گھومتے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں مقابلہ ایک’’میاں صاحب‘‘ اور ایک ٹھیکیدار کے درمیان تھا دونوں کے پاس اجداد کی اور پھر اپنی خداداد استعداد کی وجہ سے بے پناہ ’’داد‘‘ تھی۔اس لیے ووٹوں اور نوٹوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا تھا۔ایک گاؤں کے ایک کونسلر کو میاں صاحب کے آدمیوں نے ٹھیکیدار کے آدمیوں سے توڑ لیا تھا۔لین دین ایک مقام پر ہورہی تھی نوٹوں کے بنڈل کونسلر کی جھولی میں منتقل ہوگئے، دعائے خیر ہوئی اور لوگ اٹھنے لگے تو کونسلر صاحب بھی نوٹوں کو جھولی میں سنبھال کر اٹھے تو اتفاق سے ’’تقاضائے بشری‘‘ کے تحت جسم سے تھوڑی سی ہوا نکل گئی لیکن خاموشی کی بجائے نہایت تیز آواز کے ساتھ، نوٹوں کا وزن شاید زیادہ ہوگیا تھا اور یہ آواز سن بھی لی گئی، بقول لتا منگیشکر

دنیا نے سن لی چپکے سے اپنی پریم کہانی

میں تو ہوگئی شرم سے پانی پانی

اب پشتونوں کا معاشرہ بھی بہت ٹیڑھا میڑھا سا معاشرہ ہے جس میں اس قدرتی اور فطری اور بشری ’’آواز‘‘ کو نہایت بُری شہرت حاصل ہے اگر کسی کے نام سے ایک مرتبہ چپک جائے تو پھر کسی کیمیکل سے بھی نہیں چھوٹتی، بہت ہی ضدی داغ ہے۔ایسے شخص کا اپنا نام بھی یہ داغ کھا لیتا ہے اور وہ دور دور تک اسی نام سے شہرت یا رسوائی حاصل کرلیتا ہے ،اس کا اصل نام لیے بغیر ہم اسے ’’ٹیزن‘‘ کا فرضی نام دیے دیتے ہیں چنانچہ وہ صاحب بھی ٹیزن ہوگیا جو بھی اس کا ذکر کرتا، کہتا اچھا وہ وہ ٹیزن۔ کل مجھے وہ ٹیزن ملا تھا۔یار مجھے اس ٹیزن سے ایک کام ہے۔بیل کس سے خریدے۔ اس ٹیزن سے۔بھینس کس کو بیچی؟اس ٹیزن کو۔اس کا محلہ اس کے کھیت اس کے جانور اس کی اولاد سب ٹیزن سے موسوم ہوگئے۔

خیر وہ بیچارا تو جب تک بقیدحیات رہا اس نام کا بھی قیدی رہا۔لیکن اسی شہرتوں کے ساتھ ایک پرابلم یہ بھی ہے کہ ایسی شہرت یا رسوائی پورے خاندان کو لاحق ہوجاتی ہے جیسے ہمارے ہاں اکثر ایسے خاندان پائے جاتے، میاں گان۔ خانزادگان، اخون زادگان، بابوگان، لوہاران، ترکانان، جلاگان زرگران وغیرہ۔حالانکہ وہ شہرت کسی ایک فرد نے حاصل کی ہوتی ہے۔ہمارے اپنے ایک رشتہ دار کا نام حضرت سید تھا حالانکہ وہ ’’سید‘‘ نہیں تھا۔لیکن صرف ایک لفظ سے وہ پورا خاندان سیدان ہوگیا تھا۔چنانچہ اس ٹیزن کی وفات ذریعہ نجات کے بعد یہ نام اس کے پورے خاندان سے چپک گیا جو بھی ان میں سے کسی کا ذکر کرتا یا حوالہ دیتا کہ اچھا وہ وہ ٹیزن۔کونسا خالد اسلم یا سلیم؟۔وہ ٹیزن۔ایک دو پیڑیاں تو یہ تمغہ امتیاز برداشت کرتی رہیں لیکن تیسری ماڈرن تعلیم یافتہ پیڑھی جس میں اچھی شہرت کے حامل افسر اور لائق فائق نوجوان بھی تھے۔ان سے برداشت نہیں ہوپایا اور ایک دن اپنا سب کچھ بیچ باچھ کر کسی شہر میں گم ہوگئے

خود اپنے سے ملنے کا بھی یارا نہ تھا مجھ میں

میں بھیڑ میں گم ہوگیا تنہائی کے ڈر سے

لیکن بات ختم کہاں ہوئی ہے وہ تو چلے گئے لیکن ان کے گھر،کھیت اور کئی چیزیں اب بھی سزا بھگت رہی ہیں اور اسی نسبت سے موسوم ہیں

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

Similar Posts