آسٹریلین کرکٹر کیمرون گرین نے عثمان طارق سے معافی مانگ لی

آسٹریلوی بلے باز کیمرون گرین نے پاکستانی اسپنر عثمان طارق سے معافی مانگ لی جس کا اشارہ عثمان طارق کی نئی انسٹاگرام اسٹوری سے مل گیا۔ 31 جنوری کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران اس وقت تلخی پیدا ہوئی تھی جب کیمرون گرین نے آؤٹ ہونے کے بعد عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اٹھایا تھا اور ان پر چکنگ یعنی (غیر قانونی باؤلنگ ایکشن) کا الزام عائد کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی اسپنر عثمان طارق اور آسٹریلوی بلے باز کیمرون گرین کے درمیان نوک جھونک نے مداحوں کی توجہ حاصل کی تھی۔

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے آل راؤنڈر کیمرون گرین نے بظاہر پاکستانی اسپنر عثمان طارق سے معذرت کر لی ہے، جن پر انہوں نے لاہور میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران چکنگ کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ نے پاکستانی باؤلر کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کیا تھا۔

ہفتے کے روز قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی تھی۔ آسٹریلوی ٹیم 15.4 اوورز میں 108 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، جہاں اس کی تمام دس وکٹیں اسپن باؤلرز نے حاصل کی تھیں۔ یہ شکست گزشتہ 21 برسوں میں آسٹریلیا کی بدترین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہار تھی۔

رنز کے تعاقب کے دوران گیاروہیں اوور میں کیمرون گرین نے عثمان طارق کی ایک وائیڈ گیند کو پوائنٹ کی جانب کھیلنے کی کوشش کی تھی، تاہم غلط شاٹ کے باعث 35 رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے، جس سے آسٹریلیا کا اسکور 6 وکٹوں پر 76 رنز ہو گیا۔

پویلین واپسی کے دوران گرین نے بیس بال تھرو جیسی حرکت کی تھی، جسے پاکستانی اسپنر پر چکنگ کے الزام کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

عثمان طارق، جو اپنا تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہے تھے، نے 2.4 اوورز میں 16 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں، جن میں آسٹریلوی ٹیل اینڈر میتھیو کوہن مین کی وکٹ بھی شامل تھی۔ اس وقت تک آسٹریلوی ٹیم یا امپائرز کی جانب سے 30 سالہ بولر کے ایکشن کے خلاف کسی باضابطہ شکایت کا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا تھا۔

میچ کے اگلے دن اتوار کی صبح عثمان طارق نے انسٹاگرام پر روتے ہوئے بچے کی اسٹوری شیئر کی تھی، جس کے ساتھ کیپشن دیا گیا تھا “After getting out” اور ایک ہنستا ہوا ایموجی بھی شامل کیا تھا۔

اگلے دن انہوں نے ایک اور پوسٹ میں لکھا ایپولوجی ایکسیپٹڈ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیمرون گرین نے ان سے معذرت کر لی ہے۔

پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھی اتوار کو میچ کے بعد پریس کانفرنس میں گرین کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کا کام نہیں بلکہ یہ ذمہ داری میچ ریفری اور امپائرز کی ہے۔

عثمان طارق کا بولنگ ایکشن غیر روایتی ہے۔ وہ ڈیلیوری پوائنٹ پر ایک لمحے کے لیے تقریباً رک جاتے ہیں، پھر آف بریک گیند ایک جھولتی ہوئی حرکت کے ساتھ کراتے ہیں، جس میں بازو کا واضح خم نظر آتا ہے۔

انہوں نے 2023 میں پروفیشنل ڈیبیو کے بعد متعدد ٹی ٹوئنٹی ڈومیسٹک لیگز میں شرکت کی ہے، جن میں کیریبین پریمیئر لیگ اور متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی 20 شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 7.50 کی اوسط سے 8 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ان کی اکانومی ریٹ 5.62 رہی ہے۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق اگر ڈیلیوری کے دوران کہنی 15 ڈگری سے زیادہ سیدھی ہو تو بولنگ ایکشن غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم قدرتی کہنی کے زیادہ مڑنے (ہائپر ایکسٹینشن) کو جانچ کے دوران شمار نہیں کیا جاتا۔

عثمان طارق کو پاکستان سپر لیگ کے 2024 اور 2025 سیزنز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے دو مرتبہ مشتبہ ایکشن پر رپورٹ کیا گیا تھا۔ پہلی بار امپائرز آصف یعقوب اور رچرڈ الِنگ ورتھ نے رپورٹ کیا تھا، جبکہ گزشتہ سال احسن رضا اور کرس براؤن نے انہیں رپورٹ کیا تھا۔ دونوں مرتبہ لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بایومکینیکل ٹیسٹنگ کے بعد ماہرین نے ان کے ایکشن کو کلیئر کر دیا اور انہیں بولنگ جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔

عثمان طارق نے ایک مرتبہ ایم وائی کے اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے بازو میں قدرتی طور پر خم ہے اور یہ ایک حیاتیاتی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ایکشن کی جانچ ہو چکی ہے اور اسے کلیئر قرار دیا گیا ہے، لیکن لوگ پھر بھی الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

Similar Posts