جیفری ایپسٹین کا پاکستان اور بھارت کی انسداد پولیو مہم کے لیے فنڈنگ دینے کا دعویٰ

عالمی شہرت یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ایک غیر معمولی انٹرویو کی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ ایک صحافی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت میں انسدادِ پولیو مہم کے لیے فنڈنگ فراہم کی تھی۔

ویڈیو میں جیفری ایپسٹین مسکراتے دکھائی دیے اور خود کو شیطان کہلانے کے سوال پر طنزیہ انداز میں جواب دیا۔

یہ ویڈیو لاکھوں دستاویزات، ای میلز، تصاویر اور ویڈیو کلپس پر مشتمل اس بڑے ذخیرے کا حصہ ہے جو امریکی محکمۂ انصاف نے جمعے کے روز جاری کیا۔

اس انٹرویو کی تاریخ اور صحافی کی شناخت کی تصدیق تو نہیں ہو سکی۔

ویڈیو میں ایپسٹین سیاہ لباس اور چشمہ پہنے نظر آئے۔

انٹرویو لینے والے شخص نے ان سے سوال کیا کہ کیا اُن کی کمائی ”گندی“ ہے؟ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ ”نہیں، ایسا نہیں ہے“، اور وجہ بتاتے ہوئے کہتا ہے، ”کیونکہ میں نے یہ خود کمائی ہے۔“

اس پر صحافی نے کہا کہ کیا یہ پیسہ دنیا کے بدترین لوگوں کو مشورے دے کر کمایا گیا ہے، جو صرف زیادہ پیسہ بنانے کے لیے بڑے اور خوفناک کام کرتے ہیں؟

ایپسٹین نے اس پر کہا کہ اخلاقیات ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ اور پھر انہوں نے دعویٰ کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت میں پولیو کے خاتمے کے لیے عطیات دیے ہیں۔

ایپسٹین نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، ان بچوں کی ماؤں سے پوچھے جنہیں ویکسین ملی اور جن کے بچے اب پولیو کا شکار نہیں ہوں گے، تو انہیں بہتر جواب ملے گا۔

پیسے کے ذرائع کے بارے میں سوال کرتے ہوئے رپورٹر نے پوچھا: ”آپ کیا ہیں، تیسرے درجے کے جنسی مجرم؟“ جس پر ایپسٹین نے جواب دیا: ”ٹیئر ون… میں سب سے نچلے درجے پر ہوں۔“

رپورٹر نے کہا: ”لیکن مجرم تو ہیں نا؟“

ایپسٹین نے جواب دیا: ”ہاں۔“

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ویکسین لینے والوں کو فنڈنگ کے پیسے کے ذرائع کے بارے میں معلوم تھا؟ تو ایپسٹین نے کہا: ”میرا خیال ہے اگر آپ ان سے یہ کہیں کہ خود شیطان نے کہا ہے کہ میں چند ڈالر دے کر تمہارے بچے کی جان کے بدلے یہ رقم دے رہا ہوں…“

اس پر رپورٹر نے مداخلت کرتے ہوئے پوچھا: ”کیا آپ خود کو شیطان سمجھتے ہیں؟“

ایپسٹین نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: ”نہیں، لیکن میرے پاس ایک اچھا آئینہ ضرور ہے۔“

رپورٹر نے کہا: “یہ ایک سنجیدہ سوال ہے”، جس پر ایپسٹین نے معذرت کی اور کیمرے کے پیچھے کسی کی طرف دیکھتا ہوئے دکھائی دیے۔

جب دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ خود کو شیطان سمجھتے ہیں؟ تو ایپسٹین نے کہا: ”مجھے نہیں معلوم، آپ ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟“

رپورٹر نے جواب دیا: ”اس لیے کہ آپ میں اس کی تمام خصوصیات ہیں، آپ غیر معمولی طور پر ذہین ہیں۔“

ایپسٹین نے کہا: ”نہیں، شیطان مجھے ڈراتا ہے۔“

انٹرویو کے آخر میں وہ بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک فلم کا حوالہ دیتے ہیں اور پھر مسکراتے ہوئے کہتے ہیں اب ہمیں جانا ہوگا، اور تالی بجا کر گفتگو ختم کر دیتے ہیں۔

یہ ویڈیو ان تیس لاکھ سے زائد فائلوں کا حصہ ہے جو امریکی محکمۂ انصاف نے جاری کی ہیں۔ ان فائلوں میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایلون مسک، بل گیٹس اور برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن پرنس اینڈریو کے ناموں کا بھی ذکر موجود ہے، تاہم ان ناموں کا آنا کسی الزام یا جرم کی تصدیق نہیں سمجھا جا رہا۔

دستاویزات میں ایک اور چونکا دینے والا پہلو 2009 کی ایک ای میل ہے، جو مبینہ طور پر ایپسٹین نے کسی نامعلوم شخص کو بھیجی۔

اس پیغام میں انہوں نے لکھا: ”آپ کہاں ہیں؟ سب ٹھیک ہے؟ مجھے تشدد والی ویڈیو بہت پسند آئی۔“

جواب میں سامنے والا شخص لکھتا ہے کہ وہ چین میں ہے اور مئی کے دوسرے ہفتے امریکا آئے گا۔

اس پیغام کے وصول کنندہ کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی، جس پر سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

ایپسٹین کی متاثرہ ایک خاتون ورجینیا جیفری کی بعد از وفات شائع ہونے والی کتاب میں بھی انکشافات سامنے آئے تھے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ایپسٹین مختلف تشدد آمیز خیالات پر عمل کرتا تھا اور ان ملاقاتوں کے دوران اسے شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

نئی فائلز میں برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو سے متعلق ای میلز بھی شامل ہیں، جن میں ایپسٹین نے ایک روسی خاتون ’ایرینا‘ سے متعارف کرانے کی پیشکش کی تھی۔

ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اینڈریو نے اس خاتون کے بارے میں مزید معلومات بھی مانگیں، حالانکہ وہ پہلے کہہ چکے تھے کہ انہوں نے 2006 میں ایپسٹین سے تعلق ختم کر لیا تھا۔

شہزادہ اینڈریو نے جنسی بدسلوکی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان فائلوں کے اجراء کے بعد مزید کسی فرد پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش کے مطابق، دستیاب مواد کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور اس میں ایسے شواہد نہیں ملے جن کی بنیاد پر نئے مقدمات بن سکیں۔

ایپسٹین کے کیس میں صرف ان کی سابق ساتھی گسلین میکسویل کو سزا سنائی گئی ہے، جو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں ملوث پائی گئیں اور اس وقت 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

ایپسٹین خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جسے خودکشی قرار دیا گیا، تاہم متاثرین آج بھی یہ کہتے ہیں کہ کئی بااثر افراد کے نام سامنے آنے کے باوجود اصل ذمہ دار اب تک محفوظ ہیں۔

Similar Posts