رواں سال میٹرک امتحانات میں یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس نافذ نہ کرنے کا فیصلہ

محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے صوبے میں میٹرک کے امتحانات میں ’’یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس‘‘ (یو ای ایس) کا اطلاق نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، مکمل تیاری نہ ہونے کے سبب رواں سال میٹرک کے امتحانات اپنے سابقہ پیٹرن پر لیے جاسکتے ہیں۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ایک اعلیٰ فسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کسی بھی اہم اکیڈمک فیصلے پر عجلت میں عملدرآمد نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ DCAR کی جانب سے ریویو کرنے اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اس کا این او سی جاری تو کردیا گیا تھا تاہم فی الحال سرکاری و نجی اسکولوں کے اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کیا ہے اور نہ ہی سندھ کے کسی بھی بورڈ کی جانب سے اس کی کوئی تیاری کی گئی ہے جبکہ تاحال اس سلسلے میں نویں اور دسویں کے ماڈل پرچے تک جاری نہیں ہوسکے ہیں۔

تعلیمی افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب اسکول اساتذہ ہی یہ نہیں جانتے کہ یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کیا چیز ہے اور اس نظام کے تحت امتحانی پرچے کس پیٹرن پر اور کیسے بنیں گے تو وہ کس طرح انتہائی محدود وقت میں سندھ کے لاکھوں طلباء و طالبات کو اس پیٹرن کے تحت امتحانی پرچوں کے لیے تیار کرسکیں گے؟ جبکہ میٹرک کے امتحانات میں ممکنہ طور پر اب پونے 2 ماہ باقی ہیں اگر پیشگی تیاری اور ہوم ورک کے بغیر یو ای ایس کے تحت امتحانی پرچے تیار کیے گئے تو اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ یہ نظام طلبہ کے لیے مشکل کھڑی کردے گا۔

افسر کے مطابق اس نظام کو آئندہ سیشن سے شروع کرنے اور 2027ء کے سالانہ امتحانات سے یو ای ایس کا اطلاق کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا ہے ۔

دریں اثنا یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پہلے اس سلسلے میں ماڈل پرچے تیار ہونگے جس سے اسکولوں کو آگاہ کیا جائے گا اور اسکول انتظامیہ اپنے اساتذہ کو اس سلسلے میں ضروری تربیت دیں گے جس کے تناظر میں نویں اور دسویں جماعتوں کی سطح پر آئندہ سیشن میں اساتذہ mock امتحانات لیں گے جو طلبہ کے لیے ایک طرح سے سالانہ امتحانات کی تیاری ہوگی۔

واضح رہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے 23 دسمبر کو ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے نویں اور دسویں میں’’بیالوجی، کیمسٹری،فزکس، ریاضی اور انگریزی‘‘ کے مضامین کے لیے یونیفارم ایکزامینیشن سلیبس اور ٹیبل آف اسپیسیفیکیشن کی این او سی جاری کی تھی جس کے تحت نویں اور دسویں میں ان مضامین کے  امتحانی پرچے تیار ہونے تھے اور ایکزامینیشن ماڈل پیپر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذیلی ادارے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ(ایس ایس ای آئی پی) کو جاری کرنے تھے جو جاری نہیں ہوسکے۔

Similar Posts