ذرائع کے مطابق دھرنے میں صرف 10 سے 15 افراد شریک تھے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کا کوئی بھی رہنماء موقع پر موجود نہیں تھا۔
دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی۔ بعد ازاں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری دھرنے میں پہنچے، ذرائع کے مطابق دونوں رہنما محمود اچکزئی کا خصوصی پیغام لے کر پہنچے تھے۔
علیمہ خان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری سے بات چیت کے بعد دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئیں، جس کے بعد دھرنا باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی گاڑی منگوا لی گئی تھی اور وہ کچھ دیر بعد چند کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔ علیمہ خان دھرنا ختم ہونے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئیں۔