شدید سردی میں روس کا یوکرین کی توانائی تنصیبات پر سب سے بڑا حملہ

یوکرین کے دارالحکومت کیف نے کہا ہے کہ روس نے رواں سال اب تک یوکرین کے توانائی کے شعبے پر سب سے شدید حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سرد موسم میں لاکھوں افراد حرارت سے محروم ہو گئے ہیں۔

یوکرینی حکام کے مطابق رات گئے روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ہزار سے زائد عمارتوں میں ہیٹنگ سسٹم بند ہو گیا۔ ان حملوں کے وقت درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شدید سردی میں شہریوں کو نشانہ بنانا روس کی جانب سے سفارتی کوششوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے ایک بار پھر امریکا کی امن کوششوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

نیٹو کے سربراہ مارک روٹے، جو منگل کو کیف کے دورے پر تھے، نے بھی حملوں کو امن مذاکرات کے لیے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا۔ ان کے دورے کے دوران کیف میں فضائی حملے کا سائرن بھی بجایا گیا۔

یوکرین کے توانائی کے وزیر کے مطابق روس نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال کیے، جس سے تھرمل پاور پلانٹس اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے اس حملے کو 2026 کا اب تک کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا ہے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے 71 میزائل اور 450 حملہ آور ڈرون فائر کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان ابو ظبی میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

Similar Posts