وہ تو اچھا ہوا کہ اصلی یونان کے سارے دانا دانشور پہلے ہی گزرگ و بزرگ ہوچکے ہیں ورنہ آج یونان ثانی اور بے حد و بے کنار دانش کو سن کر یا پڑھ کر سقراط کا اتباع کرکے زہرکا پیالہ نوش کر لیتے، وہ کون سا موضوع ہے جو اس یونان ثانی کے دانشوروں کی دسترس سے باہر ہے۔
ملک میں پیدا ہونے والے مسائل تو ان کی پیدائش سے بھی پہلے حل کردیتے ہیں اوربین الاقوامی یا دوسرے ملکوں کے مسائل پر وہ وہ دانش بگھارتے ہیں کہ پڑھنے اورسننے والے عش عش کرتے ہوئے غش کھاجاتے ہیں اوراوپر سے اکثر مولانا ظفرعلی خان بھی ہیں ۔
مولانا ظفرعلی خان اپنے اخبار زمیندار میں بہت طویل ادارئیے لکھا کرتے تھے جنھیں پڑھتے ہوئے اکثر پڑھنے والے سو جاتے تھے اور ان کے سارے کاموں کاحرج ہوجاتا۔ ایک دن ایک قاری نے ان سے کہا کہ مولانا ذرا مختصر لکھئے کیوں کہ دنیا میں لوگوں کو اوربھی کچھ کام کرنا پڑتے ہیں۔
جس پر مولانا نے اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختصر لکھنے کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہوتا اور یہ بات واقعاتی لحاظ سے سچ بھی ہے ۔
دریا کوکوزے میں بند کرنے کے لیے کافی وقت، محنت اورمہارت درکارہوتی ہے لیکن کوزے کو دریا میں پھینکنے کے لیے کچھ بھی درکارنہیں ہوتا بس کوزہ اٹھائیے، دریا میں پھینک دیجیے آگے وہ خود دریا میں تیرتا رہے گا۔
چنانچہ مختصر لکھنے کے لیے ان بیچاروں کے پاس بھی وقت نہیں، اس لیے ہم جب شروع ہوجاتے ہیں تو پھر بھول جاتے ہیں کہ شروع کے بعد اختتام بھی ہواکرتا ہے اوریہ کم بخت معاملات بھی تو زیادہ پھیل گئے۔
کشمیر ہے ،غزہ ہے، وینزویلا ہے، ایران ہے، بنگلہ دیش ہے، میانمار ہے، ٹرمپ ہے ،نتن یاہو ہے ،مودی ہے اور ان سب کو سمجھانا اور مشورے دینا بھی ضروری ہے اوراگر یونان ثانی کے دانادانشور نہیں سمجھائیں گے یا رہنمائی نہیں کریں گے تو اورکون یہ کام کرے گا اوردنیا میں ہے ہی کون یونان ثانی کے دانشوروں کے سوا ۔۔اوراب
اب تو پیش آگئے کچھ اوربھی مقام
اس کی فرقت میں فقط جی کا زیاں تھا پہلے
پہلے صرف دانائی دانشوری کاکام تھا، وہ تو خبریونان ثانی کے دانشوروں کے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کاکام تھا لیکن اب ایک اورچیز کے مضمرات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔
آئینی ترمیم کے مضمرات ، بانی کے وژن کے مضمرات، سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے مضمرات، نواز شریف اوراچکزئی کی ملاقات کے مضمرات ،وزیراعظم کے دورہ امریکا کے مضمرات ، ٹرمپ کے تھمپ کے مضمرات ،سورج بر بادلوں کے حملے کے مضمرات ،چاول کے دانے پر مونا لیزہ کی تصویر کے مضمرات ، گدھوں کے مسلسل غائب ہونے کے مضمرات،و ینزویلا کے واویلے کے مضمرات ،فیلڈ مارشل کے دورہ چین کے مضمرات ، بنگلہ دیش میں ہونے والے مصافحے کے مضمرات ، مولانا فضل الرحمان کی ناراضگی کے مضمرات ، بانی سے بہنوں کی ملاقات نہ ہونے کے مضمرات۔
ہم نے بڑی کوشش کی، لغات چھانے کی کہ اس لفظ ’’مضمرات‘‘ کے معنی معلوم کریں لوگوں سے پوچھا خود تغوذ وتفکر کیا لیکن تسلی بخش معنی کہیں نہیں ملے، اس سے ایک ملتا جلتا لفظ’’حضرات‘‘ ملا لیکن اس کے معنی تو بہت ہی ناپسندیدہ پائے کہ اس کی بنیاد ضرر سے مضر اورپھر مضرات ہے اورگرامر کے لحاظ سے تویہ صفر کے مقابل مونث ہے اورمفہوم ہے مضر لوگوں کی بیویاں۔ لیکن مضمرات تو مذکر ہے اور اس کی مونث ’’مضمرانیاں‘‘ ہوسکتی ہیں ۔
اگر کہیں نصیبوں سے کبھی کسی دانشور سے ملاقات ہوگئی تو پوچھیں گے کہ یہ مضمرات کیا ہیں جو ہرچیز میں آج کل گھسے جارہے ہیں یا اس سے نکالے جارہے ہیں۔لیکن سیاق وسباق سے ایسا لگتا ہے کہ یہ مضمرات دانائی اوردانشوری سے بھی آگے کی چیزہیں، اوراس میں پیشگوئی کامفہوم بھی پایا جاتا ہے ۔ گویا ہمارے دانا دانشور اب مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں ۔
اب ٹرمپ نے تھمز اپ کرلیا ہے تو آگے اس کے اندر مضمرات معلوم کرنا ان دانشوروں کاکام ہے یا بنگلہ دیش میں ہمارے اوربھارت کے وزرائے خارجہ نے تو مصافحہ کرلیا ہے ،اب اس مصافحے کے اندر مضمرات تلاش کرنے میں دانا دانشورہی ’’لگے رہو منا بھائی‘‘ ہوگئے ہیں یا ہوجائیں گے۔
بہرحال ہمیں خوش ہوناچاہیے کہ یونان ثانی یا نیو یونان کے دانادانشور مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، دانش پر دانش بگھار رہے ہیں اوروہ دن بھی دورنہیں ہے جب گائے کی سینگوں میں پھنسی ہوئی ہانڈی نکالنے کے مرحلے تک بھی پہنچ جائیں گے ۔
ضرورت صرف ایک بات کی ہے اوروہ بات یہ ہے کہ ہمیں ان دانادانشوروں کے لیے کہیں سے بھی ’’وقت ‘‘فراہم کرنا پڑے گا تاکہ ان کو طویل لکھنے کی بجائے مختصر لکھنے کاموقع ملے اوروقت بھی ۔
پھر وہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا جو ایک عرصے سے تمہارے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے کہ سب دانا دانشوریہ سب کچھ ’’کس ‘‘ کو کہہ رہے ہیں، کیوں کہ یہ تو معلوم ہے کہ ان کے نام اورتصاویر بھی سامنے ہوتے ہیں لیکن اس سننے والے یا سننے والوں کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے جن کو یہ اپنی دانائی اوردانشوری سنارہے ہیں یا ’’مار‘‘ رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں جنھیں ان سب کچھ سے آگاہ کیاجارہا ہے اوروہ آگاہ ہونے کے بعد کریں گے کیا۔
مثلاً ہمیں اگر ان کی برکت سے یہ آگاہی حاصل بھی ہوجائے کہ کشمیر میں ہنود اورفلسطین میں یہود یہ یہ اور وہ وہ کررہے ہیں، کشمیریوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کررہے ہیں تو ہم کیاکرسکتے ہیں، صرف ان کے ساتھ یک جہتی کرسکتے ہیں اوروہ تو ہم پہلے سے کررہے ہیں اورڈھیرساری کررہے ہیں، مسلسل کرتے رہے ہیں اورکرتے رہیں گے
ہم پرورش ’’حلق و شکم ‘‘ کرتے رہیں گے
جو کچھ بھی لگے ہاتھ ہضم کرتے رہیں گے