غیرملکی میڈیا کے مطابق خطے میں کشیدگی کو کم اور ممکنہ فوجی تصادم کو روکنے کے لیے امریکا ایران مذاکرات جمعہ کو استنبول میں ہو نگے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے وزیرخارجہ کو ہدایت دی ہے کہ دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ماحول میں منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیے جائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں دیے گئے حالیہ بیانات ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست میں امریکا کے اس کردار کو نمایاں کرتے ہیں جس میں طاقت، دباؤ اور مذاکرات تینوں عناصر بیک وقت استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایران کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد مذاکرات کے آغاز کا اعلان بظاہر ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتا ہے، مگر اس اعلان کے پس منظر میں دہائیوں پر محیط وہ کشیدگی، عدم اعتماد اور تصادم کی تاریخ موجود ہے جس نے امریکا اور ایران کے تعلقات کو مسلسل غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا ہے۔
یہ کہنا کہ امریکا جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جسے عالمی برادری ماضی کے تجربات کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایران اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے کشیدہ رہی ہے، جب ایران میں شاہِ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکا مخالف جذبات کو ریاستی پالیسی کی حیثیت حاصل ہوئی۔
اسی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور سفارت کاروں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔
اس کے بعد سے لے کر آج تک اقتصادی پابندیاں، خفیہ آپریشنز، سائبر حملے، علاقائی پراکسی جنگیں اور سفارتی محاذ آرائی دونوں ریاستوں کے تعلقات کا مستقل حصہ بنی رہی ہیں۔
ایسے میں کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کو صرف موجودہ حالات تک محدود رکھ کر دیکھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔
ایران کا جوہری پروگرام ان کشیدہ تعلقات کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف رہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے اور اپنے پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ ایک اہم پیش رفت سمجھا گیا تھا، مگر بعد ازاں امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے دستبرداری نے نہ صرف ایران کو مایوس کیا بلکہ عالمی سفارتی نظام کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھا دیے۔ اسی پس منظر میں آج کے مذاکرات کو ایران انتہائی احتیاط سے دیکھ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ وارننگ کہ معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں برے نتائج نکل سکتے ہیں، مذاکراتی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ سفارت کاری کی روح دباؤ اور دھمکیوں سے مطابقت نہیں رکھتی اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر ایرانی قیادت زور دے رہی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان کہ مذاکرات منصفانہ، برابری اور دھمکیوں سے پاک ماحول میں ہونے چاہیئیں، دراصل ایران کے اس دیرینہ مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے کہ وہ طاقت کی زبان کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ ایران کی یہ پالیسی اس کی داخلی سیاست، قومی وقار اور علاقائی حکمتِ عملی سے جڑی ہوئی ہے۔
ان تمام حالات کے درمیان پاکستان کو امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت ملنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن، اعتدال اور مذاکرات پر مبنی رہی ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی روابط ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ بھی طویل سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردار ایک پل کی مانند ہو سکتا ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے۔
استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کی میزبانی بھی علامتی اہمیت رکھتی ہے۔ ترکیہ ایک ایسا ملک ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان جغرافیائی اور سیاسی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک اب کسی بڑے فوجی تصادم سے بچنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ یہ ممالک جانتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا براہِ راست اثر ان کی معیشت، سلامتی اور سیاسی استحکام پر پڑتا ہے۔
پاکستان کی ممکنہ نمائندگی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ذریعے ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
پاکستان اس موقع پر نہ صرف اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر سکتا ہے کہ وہ محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمے دار عالمی شراکت دار ہے۔
تاہم یہ کردار نہایت نازک بھی ہے، کیونکہ کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ پاکستان کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ جیسی شخصیت کے بارے میں چونکہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے اس لیے حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ ایران کی قیادت کو بھی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہے کہ انھیں امریکی جارحیت سے بچنے کے لیے مسلم اور عرب دنیا کے تعاون کی ضرورت ہے۔
اس لیے سرِ دست اسے قومی مفادات کی روشنی میں معاملات کو سمجھنا چاہیے۔ یقیناً ایران کو اندازہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کی دوستی اس کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ پاکستان کو بھی ادراک ہے کہ سرحدوں پر کوئی اسرائیل نواز حکومت اس کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
سعودی عرب نے بھی جان لیا ہے کہ ایران کے ساتھ معرکہ آرائی پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو برباد کر سکتی ہے۔ بحیثیت مجموعی اس احساس کا بیدار ہونا ایک اچھی خبر ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان اتنا خلا نہ ہو جو مخالفین کو در اندازی کا موقع دے۔
ایک اور اہم پیش رفت مسلمان ممالک میں دفاعی تعاون میں اضافہ ہے۔ آغاز پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے سے ہوا۔ اب ترکیہ اور ملائیشیا بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس کو بہت حکمت کے ساتھ آگے بڑھانا ہو گا۔ ’’اسلامک نیٹو‘‘ کا خیال اگر بلوغت تک پہنچ جائے تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے اثرات محض ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔
توانائی کی عالمی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، خلیجی ریاستوں کی سلامتی اور ایشیا و یورپ کے تجارتی راستے سب اس سے متاثر ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو توانائی درآمد کرنے پر انحصار کرتے ہیں، خطے میں استحکام براہِ راست معاشی بہتری سے جڑا ہوا ہے۔
اس لیے پاکستان کا امن کے حق میں کردار اس کے اپنے قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔امریکی صدر کی جانب سے ری پبلکن پارٹی کے لیے مڈٹرم الیکشن جیتنے کی خواہش کا اظہار اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی سیاست اکثر داخلی سیاست کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔
خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلے بھی بعض اوقات ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری امریکا کے بیانات کو محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کی روشنی میں جانچنے کی کوشش کرتی ہے۔
ایران کی محتاط امید اور محتاط بے یقینی دراصل اس تجربے کا نتیجہ ہے جو اسے ماضی میں حاصل ہوا۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا یہ کہنا کہ نہ تو وہ پرامید ہیں اور نہ ہی مایوس، ایک حقیقت پسندانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ رویہ شاید مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری بھی ہے، کیونکہ غیر ضروری توقعات اکثر مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔
آخرکار یہ بات واضح ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب دونوں فریق ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے پر آمادہ ہوں۔
طاقت کے استعمال اور پابندیوں کی سیاست نے اب تک مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھایا ہے۔ اگر واقعی عالمی امن اور علاقائی استحکام مطلوب ہے تو اعتماد سازی، باہمی احترام اور سنجیدہ سفارت کاری کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دیں کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ استنبول کے مذاکرات ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے یا پھر تاریخ کی فائلوں میں ایک اور ناکام کوشش کے طور پر درج ہو جائیں گے۔
تاہم ایک بات طے ہے کہ اس عمل میں شامل ہر ریاست کے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل پر اثرانداز ہوں گے، اور یہی اس معاملے کی اصل سنجیدگی ہے۔