خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج پاکستان کے جو حالات ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی صحت کے حوالے سے پوری قوم کو تشویش ہے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نا حق قید کیا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ہر منگل کو کیمیکل والا پانی ان پر پھینکا جاتا ہے، ہم پاکستان تحریک انصاف کے ورکر ہونے کی حیثیت میں علیمہ خان اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ہم پی ٹی آئی کے ورکر ہونے کی حیثیت سے ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جیل میں رکھا گیا ہے، جیل میں رکھنے کے بعد ان کے ذاتی معالج کے بغیر ان کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا، ایسی جگہ ان کا علاج کیا جہاں ان کی فیملی اور ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ میڈیکل ٹیرارزم کی گئی، جب سابق وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں گے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا ہے، تمام قانونی دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بھی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بانی پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کر کے یہ ذمہ داریاں ان کے حوالے کی ہیں، احتجاج اور مذاکرات دونوں کا اختیار ان دونوں شخصیات کے پاس ہے، میرا فرض بنتا ہے کہ میں ان کی ہر بات کی لاج رکھوں۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، 8 فروری کے دن وہ کیا گیا جو 1971 اور 1973 میں کیا گیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، نشان چھیننے کے بعد ہمارے نمائندوں سے کاغذات سرعام چھینے گئے، ڈنڈے کی زور اور بندوں کی نوک پر فارم 47 بنا کر نااہلوں کو ہم پر مسلط کیا گیا۔