’اسلام آباد میں دھماکا اور ان کا تماشہ‘، ندا یاسر کے بسنت منانے پر تنقید

پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر کو بسنت کی تقریب منانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 

نِدا یاسر پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ہیں اور انسٹاگرام پر اُن کے فالوورز کی تعداد 24 لاکھ ہے، وہ گزشتہ تقریباً 18 برس سے مارننگ پاکستان کی میزبانی کر رہی ہیں۔

نِدا یاسر عموماً گفتگو پر مبنی شوز کرتی ہیں اور اپنے متنازع بیانات کے باعث اکثر سوشل میڈیا پر میمز اور تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں وہ پہلے ہی مختلف متنازع مباحث پر تنقید کا سامنا کر رہی تھیں، ایسے میں انہوں نے اپنے شو میں بسنت منانے کا فیصلہ کیا۔

آج نِدا یاسر نے اپنے مارننگ پاکستان میں بسنت اسپیشل شو کیا، جس پر مزید تنقید سامنے آئی، اس شو میں انہوں نے معروف پاکستانی کوریوگرافر نگاہ جی، سعدیہ امام، کرن خان، گلوکار جنید سمیت دیگر مہمانوں کو مدعو کیا، جہاں سب نے بسنت کے تہوار پر گفتگو کی۔

لاہور میں جاری بسنت کی تقریبات کے سلسلے میں نِدا یاسر نے گانے ’شکر ونداں رہ‘ پر رقص کے اسٹیپس بھی سیکھے جب کہ شو میں نِدا یاسر اور دیگر فنکاروں نے رقص کیا اور بسنت منائی۔

لاہور میں ہونے والی بسنت تقریبات پر نِدا یاسر کے حد سے زیادہ جوش نے شدید ردِعمل کو جنم دیا۔

ایک مداح نے لکھا کہ نِدا، کم از کم جمعے کے وقت یہ رقص تو نہ کریں۔

ایک اور نے لکھا کہ ان نام نہاد دانشوروں پر شرم آنی چاہیے، یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ بسنت معیشت کو مضبوط کرے گی، ایسے ناکام ماہرِ معاشیات۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ شرم کی بات ہے، میں نے انہیں فلسطین پر بات کرتے نہیں دیکھا۔

بہت سے لوگوں نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان سنگین حالات سے گزر رہا ہے، تیراہ کے لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، بلوچستان میں حالات خراب ہیں اور آج راولپنڈی میں بم دھماکہ بھی ہوا ہے۔

کئی صارفین نے گڈ مارننگ پاکستان کی خواتین پر تنقید کی اور ان تقریبات کو شرمناک قرار دیا۔

ایک مداح نے لکھا کہ کیا وہ اپنے شو میں کچھ بہتر سکھا نہیں سکتیں؟

ایک اور نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے بڑے انسانی نقصان کی کسی کو پروا نہیں، بس تہوار منائے جا رہے ہیں۔

Similar Posts