پاکستان نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا بند نہیں کیا: دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو پاکستان کا ویزا جاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں اور بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا بھی بند نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال 4 ہزار سے زائد سکھ زائرین کو پاکستان کے ویزے جاری کیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا بھارتی دعوت نامہ موصول ہوگیا ہے۔

اجلاس 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں ہوگا، جس میں شرکت کا فیصلہ ادارہ جاتی مشاورت اور ضابطہ کار مکمل ہونے کے بعد قیادت کرے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ بھارتی پنجاب اسمبلی میں وزیراعلی بھگونت مان نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، انھوں نے کہا تھا کہ لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس ہو رہی ہے اور مجھے بلایا گیا ہے، میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ ہماری جڑیں ایک ہیں مسائل ایک ہیں۔

اس اجلاس کے دوران بھارتی اسپیکر سمیت دیگر اراکین نے بھی پاکستان جانے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ بھگونت مان صاحب آپ حکومت کی جانب سے اجازت ملے تو ہمیں بھی لاہور ساتھ لے کر جائیں۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ اتحاد کے رکن ممالک کا ایران کے ساتھ پہلا مشاورتی اجلاس اتحاد کے دفاعی اور امن پسند مقاصد کا ثبوت ہے۔ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بل کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔ ان کے مطابق آئندہ اجلاسوں کی تاریخیں تاحال طے نہیں ہوئیں اور مناسب وقت پر مزید ملاقاتیں ہوں گی۔

پاک ایران سرحد سے متعلق ترجمان نے بتایا کہ سرحد پر آمدورفت جاری ہے، تاہم بارڈر کھلنے کی موجودہ صورتِ حال متعلقہ اداروں سے معلوم کرنا ہوگی۔

ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے مخلص ثالث کی حیثیت سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی اور 47 سال سے ایک دوسرے سے بات نہ کرنے والے ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کا حل ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی امن کوششوں کا ثبوت ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں اور سہولت کاری جاری رکھے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں وقت لگ سکتا ہے، اس دوران انتہائی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری حملے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قیاس آرائی یا تبصرہ مناسب نہیں۔

سجاد حیدر خان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، اسرائیل فلسطین صورتِ حال، یمن میں حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

وزرائے خارجہ نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی امن کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ سلامتی کونسل نے 5 نومبر کو پاکستان کی پیش کردہ سفارت کاری سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کیا۔ بیان میں ثالثی، سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے تسلسل کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔

Related posts