پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہے، پی ٹی آئی اور مولانا سے لڑیں گے تو ترقی کب کریں گے؟ بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے، کسی سے جھگڑنے کے بجائے تمام سیاسی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کی جائے، اگر ہم پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان سے لڑتے رہیں گے تو ترقی کب کریں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات ختم کرکے معاشی چیلنجز سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔

جمعے کو لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل نئے اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دنیا بھر میں معاشی بحران ہے اور پاکستانی عوام کو بھی معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں ہر کسی سے جھگڑنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی سے بھی لڑ رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان سے بھی لڑ رہے ہیں، افغانستان اور بھارت سے بھی لڑ رہے ہیں، اس طرح سب سے لڑتے رہیں گے تو ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا مقابلہ کیسے کریں گے؟

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سابق وزیر خارجہ کی حیثیت سے وفاقی حکومت کو مشورہ دیتا ہوں کہ اختلافات ختم کرکے ملک کی معاشی صورت حال پر توجہ دی جائے۔ وفاقی حکومت کو صوبائی اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے چاہییں، توجہ سیاسی اختلافات کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل پر ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنا آسان اور کام کرنا مشکل ہے، ہم ہر ممکن طریقے سے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بہت مثبت رہی، جس میں مل کر حکمت عملی بنائی ہے اور چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وزیراعظم کو وفاقی کابینہ کے اجلاس مختلف صوبوں میں منعقد کرنے کی دعوت دی ہے جب کہ وفاق اور سندھ کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے کراچی میں بھی اجلاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ سندھ میں وفاقی منصوبوں سے متعلق صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2008 سے 2013 تک سندھ میں وفاقی منصوبے شروع کیے گئے تھے اور اس وقت پیپلز پارٹی کے دور میں وفاق اور صوبہ مل کر کام کر رہے تھے تاہم کافی عرصے سے سندھ میں وفاقی منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشاہدہ درست ہے کہ سندھ میں وفاقی منصوبے نہیں آ رہے، پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) دیکھ لیں، اس میں سندھ کے لیے منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سیمینار سیمینار کھیل رہے ہیں، آپ بھی سیمینار رکھ لیں، میں آجاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ بتائیں گے کہ وفاق کی جانب سے کن منصوبوں میں معاونت فراہم کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں، حکومتی معاونت کے باوجود تعلیمی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور مستقبل میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سمیت کوئی صوبہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سندھ جتنے فنڈز فراہم نہیں کر رہا۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق وفاقی حکومت پورے ملک میں اعلیٰ تعلیم پر 60 ارب روپے خرچ کر رہی ہے جب کہ سندھ حکومت یونیورسٹیوں کو 45 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کر رہی ہے۔

Related posts