غزہ سے متعلق اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی باضابطہ میٹنگ 19 فروری کو امریکا میں منعقد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بورڈ کے تمام اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی واشنگٹن میں میزبانی کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ اس بورڈ میں دنیا کے 25 ممالک شامل ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اس بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اگرچہ اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا تاحال منظرِ عام پر نہیں لایا گیا، تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کا حصہ ہے۔
اس مجوزہ منصوبے میں غزہ کی تعمیرِ نو اور حماس کو غیرمسلح کرنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل اور اس کی پہلی میٹنگ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس کے اثرات غزہ کے مستقبل، علاقائی سیاست اور عالمی سفارتی توازن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 22 جنوری کو سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’بورڈ آف پیس‘ کے مسودے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔
تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، بحرین، مراکش، ارجنٹینا، آرمینیا کے رہنماؤں نے بھی مسودے پر دستخط کیے تھے۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، قطر، ازبکستان، پیراگوئے، آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان ، کوسوو اور منگولیا بھی مسودے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل تھے۔