ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کی صورتحال ہر لمحے بدل رہی ہے۔ مسقط میں ہونے والی پہلی نشست کو ابتدائی طور پر کامیاب قرار دیا گیا، تاہم ایرانی وزیرخارجہ نے تازہ انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، جبکہ امریکی صدر اگلے ہفتے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔
ایرانی وزیرخارجہ نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ہدف بنیں گے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ جوہری مذاکرات کا اگلا دور ابھی طے نہیں ہوا ہے، جبکہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اگلی بیٹھک آئندہ ہفتے ہوگی۔
اس دوران امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ملاقات بھی اگلے ہفتے طے پا گئی ہے۔
اسرائیلی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی بات بھی شامل کی جائے۔
واضح رہے کہ ایران نے پہلے ہی مسقط میں مذاکرات کے دوران امریکا کے یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور ایران کی میزائل صلاحیتوں پر بھی اب تک کوئی بات نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مسقط میں پہلی بیٹھک کے کامیاب ہونے کے باوجود مذاکرات کے مستقبل پر کئی سوالات موجود ہیں اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کی جانب سے دی گئی دھمکی اور امریکا کے اسرائیل سے تعلقات کی تازہ ملاقاتیں خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہیں۔