ٹی 20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کی پاکستان کو منانے کی کوششیں، محسن نقوی نے تمام شرائط پیش کردیں

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت سے میچ کھلانے کے لیے منانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس حوالے سے لاہور میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات میں بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان مذاکرات 3 گھنٹے سے زائد وقت سے جاری ہیں جب کہ چیئرمین پی سی بی نے اپنا فوکس بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر رکھا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کو مشروط کردیا اور اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنی تمام شرائط سے آئی سی سی کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کے سامنے پاکستان کا مؤقف کھل کر بیان کیا اور کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ حکومت نے ہی کرنا ہے جب کہ پاکستان نے ایونٹ سے باہر کرنے پر بنگلہ دیش کے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کیا ہے۔

بنگلادیش کا بھارت میں نہ کھیلنے کے مؤقف کی حمایت پر شکریہ

قبل ازیں اتوار کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام لاہور کے قذافی اسٹیڈیم پہنچے تو چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ان کا خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر محسن نقوی سے امین الاسلام نے ملاقات کی، جس میں کرکٹ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ صدر بنگلادیشی کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت میں نہ کھیلنے کے معاملے پر بنگلادیش کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

بعد ازاں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھی قذافی اسٹیڈیم پہنچے، جہاں ان کی بھی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صدر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین الاسلام، سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر، ایڈوائزر ٹو چیئرمین پی سی بی عامر میر اور سی او او پی سی بی سمیر احمد سید بھی موجود تھے۔

پی سی بی ہیڈ کوارٹر لاہور میں ملاقات کے دوران  ٹی 20 ورلڈ کپ تنازعے، پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کا ایجنڈا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کو بھارت کے خلاف راؤنڈ میچ کھیلنے پر آمادہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر انہیں اسکواڈ سے ریلیز کردیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنے کھلاڑیوں کے لیے مقام تبدیل کرنے کی درخواست آئی سی سی سے کی گئی تھی۔

بنگلہ دیش نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں جس پر آئی سی سی نے بی سی بی کی درخواست مسترد کردی تھی اور بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا تھا۔

جوابی اقدام کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی بھرپور حمایت کی تھی اور بنگلہ دیش کا ساتھ دیتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث آئی سی سی کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بعد ازاں یکم فروری کو پاکستانی حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی لیکن بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Similar Posts