مدعیہ کے مطابق اس کا شوہر مزدوری کے سلسلے میں باہر رہتا ہے جبکہ وہ اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اس کا دیور نیئر تعظیم، جو برطانیہ سے ایک ریپ کیس میں ڈی پورٹ ہو کر آیا ہے، آئے دن اسے ہراساں کرتا رہتا ہے۔
مدعیہ کا کہنا ہے کہ دو روز قبل نیئر تعظیم نے اپنے دوستوں کو گھر کی بیٹھک میں بٹھا کر چرس اور شراب نوشی کی، جس پر اس نے اپنی پھوپی کو بلایا جنہوں نے دوستوں کو وہاں سے جانے کا کہا۔ اس پر ملزم طیش میں آ گیا اور گولیاں مارنے کی دھمکیاں دیں۔
خاتون کے مطابق اگلی صبح جب وہ واش روم گئی تو نیئر تعظیم باہر کھڑا ہو گیا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا، ملزم نے دھکا دیا، کپڑے پھاڑ دیے اور مبینہ طور پر زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ مدعیہ نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور سسر و دیور کی ویڈیو بنا لی جو اس کے بقول اس کے پاس بطور ثبوت موجود ہے۔
مدعیہ نے مزید الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی سسر کی جانب سے ایسی حرکت کی جا چکی ہے جبکہ نیئر تعظیم نے اس کے بیٹے کے ساتھ بھی مبینہ زبردستی کی تھی، تاہم چند بااثر افراد کی مداخلت سے اس وقت راضی نامہ ہو گیا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم دوبارہ جنسی درندہ بن چکا ہے اور آئے دن ایسی حرکات کرتا رہتا ہے۔
واقعے کے بعد مدعیہ نے ون فائیو پر کال کی، پولیس موقع پر پہنچی اور درخواست دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں تھانہ گوجرخان میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق فریقین کے درمیان جائیداد کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، اصل صورتِ حال تفتیش کے بعد واضح ہوگی۔