سکل بن پھول رہی سرسوں

بسنت برصغیر کی اُن چند روایات میں سے ایک ہے جو موسم ثقافت اور انسانی جذبات کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیتی ہے۔ یہ صرف پتنگ اُڑانے کا دن نہیں، بلکہ رنگوں، خوشیوں اور اجتماعی مسرت کا ایسا تہوار ہے جو دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب سردیوں کی دھند چھٹنے لگتی ہے، سرسوں کے کھیت زردی اوڑھ لیتے ہیں اور فضا میں ہلکی سی حدت آ جاتی ہے تو بسنت کی آمد کا اعلان خود موسم کرنے لگتا ہے۔ یہ اعلان کسی کیلنڈرکا محتاج نہیں، یہ دلوں میں خود بخود اتر جاتا ہے۔

 بسنت کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا رنگ ہے۔ زرد رنگ جو زندگی امید اور نئی شروعات کی علامت ہے۔ چھتوں پر زرد دوپٹے سڑکوں پر زرد لباس ،گھروں میں زرد پھول اور فضا میں زرد پتنگیں ، یوں لگتا ہے جیسے پورا شہر ایک ہی رنگ میں نہا گیا ہو۔ یہ رنگ صرف آنکھوں کو نہیں بھاتا بلکہ دل پہ بھی اثرکرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف سنجیدگی اور بوجھ کا نام نہیں بلکہ خوشی، ہنسی اور بے فکری بھی اس کا حصہ ہیں۔

بسنت کا ایک اہم پہلو اس کی اجتماعیت ہے۔ اس دن لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، چھتوں پر اکٹھے ہوتے ہیں، اجنبی بھی ایک دوسرے سے بات کرنے لگتے ہیں۔ ایک ہی محلے کے لوگ جو شاید سال بھر ایک دوسرے کو نام سے نہ جانتے ہوں، بسنت کے دن ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مبارکباد دیتے اور پتنگ کٹنے پر ایک ساتھ ہنستے ہیں۔ یہ تہوار سماجی فاصلے کم کرتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

پتنگ بازی بسنت کی پہچان ضرور ہے مگر اصل بات مقابلہ نہیں بلکہ شرکت ہے۔ یہاں جیتنے سے زیادہ اہم شامل ہونا ہے۔ چھوٹے بچے پہلی بار ڈور تھامتے ہیں۔ بزرگ اپنی چھتوں پر بیٹھ کر ماضی کو یاد کرتے ہیں، خواتین طرح طرح کے پکوان تیارکرتی ہیں اور نوجوان جوش و خروش سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے جس میں محبت اور یگانگت کی خوشبو ہوتی ہے۔

بسنت کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ مذہب ، طبقے اور زبان کی حد بندیوں سے ماورا دکھائی دیتی ہے۔ یہ کسی ایک گروہ کا تہوار نہیں بلکہ سب کا ہے۔ یہاں خوشی کا کوئی مخصوص پتہ نہیں نہ کوئی خاص شناخت۔ بسنت اس بات کی علامت بن جاتی ہے کہ ثقافت وہ مشترکہ زمین ہے جہاں مختلف لوگ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت دلوں کو جوڑنے کا تہوار کہلاتی ہے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بسنت بھی تنازعات کی نذر ہوگئی تھی۔ حفاظتی خدشات، حادثات اور بے احتیاطی نے اس تہوارکی خوشیوں کو دھندلا دیا۔ پابندیاں لگیں، خوف پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ وہ رنگ ماند پڑنے لگے جو کبھی فضا میں بکھرا کرتے تھے۔ سوال یہ نہیں کہ خطرات موجود نہیں تھے، سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل صرف پابندی ہے؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ احتیاط اور ذمے داری کے ساتھ اس روایت کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟

بسنت ہمیں ذمے داری کا سبق بھی دیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ خوشی اور احتیاط ایک ساتھ چل سکتے ہیں، اگر ڈور محفوظ ہو، اگر قانون پر عمل ہو، اگر انسان دوسرے انسان کی جان کو اپنی خوشی سے زیادہ قیمتی سمجھے تو بسنت واقعی ایک خوبصورت تہوار بن سکتا ہے۔ مسئلہ تہوار نہیں، مسئلہ ہمارے رویے ہیں۔ جب رویے بدلیں گے تو روایت بھی محفوظ ہو گی۔

آج کے دور میں جب زندگی تیز، بے رحم اور مقابلے سے بھری ہوئی ہے، بسنت جیسے تہوار ہمیں سانس لینے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی صرف اسکرینوں، خبروں اور مسائل کا مجموعہ نہیں۔ یہ ہنسی رنگ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا نام بھی ہے۔ بسنت ایک دن کے لیے ہی سہی ہمیں اپنی چھتوں پر واپس لے آتی ہے جہاں آسمان قریب محسوس ہوتا ہے اور دل ہلکا ہو جاتا ہے۔

نئی نسل کے لیے بسنت محض ایک روایت نہیں بلکہ شناخت کا حصہ بن سکتی ہے بشرطیکہ ہم اسے مثبت انداز میں منتقل کریں، اگر ہم بچوں کو صرف پتنگ نہیں بلکہ ذمے داری احترام اور خوشی بانٹنے کا ہنر سکھائیں تو بسنت محض ماضی کی یاد نہیں رہے گی بلکہ مستقبل کی امید بن جائے گی۔ ثقافت تب ہی زندہ رہتی ہے جب وہ وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنائے ورنہ رنگ مدھم ہوتے ہوتے مٹ جاتے ہیں۔

بسنت کا پیغام سادہ مگر،گہرا ہے خوشی بانٹی جائے تو بڑھتی ہے، رنگ ماحول کو اور زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں اور دل جڑیں تو سماج مضبوط ہوتا ہے۔ یہ تہوار ہمیں اختلاف کے شور میں ہم آہنگی کی یاد دلاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب سماج تقسیم در تقسیم کا شکار ہو، بسنت ہمیں ایک مشترکہ خوشی اور مسکراہٹ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت صرف ایک دن یا ایک تہوار کا نام نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ احساس ہے زندگی سے محبت کا، ایک دوسرے کے قریب آنے اور لمحہ بھر کو فکروں سے آزاد ہونے کا۔ اگر ہم اس احساس کو زندہ رکھ سکیں تو شاید ہمارے شہر ہمارے آسمان اور ہمارے دل ایک بار پھر رنگوں سے بھر جائیں۔

بسنت صرف رنگ خوشی اور پتنگ بازی کا تہوار نہیں، بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی اور انسانی جذبوں کی عکاسی بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی خوشی صرف خود کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے احترام شفقت اور باہمی تعلق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ چھتوں پرکھڑے لوگ محلے میں کھیلتے بچے بزرگ جو ماضی کی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، خواتین جو محبت اور محنت سے پکوان تیارکرتی ہیں۔

 اس تہوار میں چھوٹا اور بڑا سب برابر ہیں اور یہی سماجی سبق ہے کہ خوشی کسی طبقے یا عمرکی محتاج نہیں۔ بسنت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ثقافت اور روایات کو صرف یادگار تصاویر رنگین لمحے یا وقتی جوش تک محدود نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ انھیں ذمے داری احترام اور اجتماعی شعور کے ساتھ زندہ رکھنا چاہیے تاکہ ہر نسل اس کی روشنی رنگ اور پیغام سے متاثر ہو، اگر ہم یہ شعور برقرار رکھ سکیں تو بسنت صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ زندگی، محبت، امید اور انسانیت کا جشن بن جائے گا جو دلوں کو قریب لائے گا اور سماج کو مضبوط کرے گا۔

Similar Posts