ٹی20 ورلڈکپ کا سنسنی خیز میچ؛ جنوبی افریقا کی افغانستان کو دوسرے سُپر اوور میں شکست

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سنسنی سے بھرپور گروپ میچ میں جنوبی افریقا نے دوسرے سُپر اوور میں افغانستان کو شکست دے دی۔ میچ نے آخری گیند تک شائقین کو سنسنی میں مبتلا کیے رکھا۔

بھارت کے شہر احمد آباد میں کھیلے گئے مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے سنسنی خیز مقابلے میں جنوبی افریقا نے افغانستان کو تاریخ کے پہلے ڈبل سُپر اوور میچ میں چار رنز سے شکست دے کر گروپ ڈی میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی۔

جنوبی افریقا اور افغانستان کا یہ میچ ڈرامائی لمحات سے بھرپور رہا اور دونوں ٹیموں نے آغاز سے آخری گیند تک شائقینِ کرکٹ کو خوب محظوظ کیا۔ مقررہ اوورز میں میچ کا فیصلہ نہ ہوسکا تو سپر اوور میں اسکور دوبارہ برابر ہوگیا جس کے بعد دوسرا سُپر اوور بھی تجسس سے بھرپور رہا۔

دوسرے سُپر اوور میں جب 4 گیندوں پر 24 رنز درکار تھے تو افغان بیٹر رحمان اللہ گُرباز نے لگاتار تین چھکے لگادیے۔ آخری گیند تک بےیقینی کی کیفیت برقرار رہی اور بالاخر جنوبی افریقا نے یہ سنسنی خیز میچ اپنے نام کرلیا۔

گروپ ڈی کے اس اہم مقابلے میں افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

جنوبی افریقا کی اننگز کا آغاز ایڈم مارکرم اور کوئنٹن ڈی کوک نے کیا، تاہم ٹیم کو ابتدا میں ہی نقصان اٹھانا پڑا جب 12 کے مجموعی اسکور پر ایڈم مارکرم افغان بولر فضل حق فاروقی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ابتدائی وکٹ گرنے کے بعد کوئنٹن ڈی کوک اور ریکلٹن نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور افغان بولرز کو زیادہ مواقع نہ دیے۔

دونوں بیٹرز نے نہ صرف ٹیم کو سنبھالا بلکہ تیز رفتار انداز میں رنز بھی اسکور کیے۔ ایک ہی اوور میں دونوں کھلاڑیوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ ریکلٹن نے 61 رنز جبکہ ڈی کوک نے 59 رنز کی اننگز کھیلی۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈیوالڈ بریوس نے 23 رنز بنائے جبکہ ڈیوڈ ملر نے 20 رنز کا اضافہ کیا۔ مقررہ 20 اوورز میں جنوبی افریقا نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔

افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ کپتان راشد خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ دیگر بولرز نے بھی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغانستان کی ٹیم نے بھرپور مقابلہ کیا۔

افغان بیٹرز نے ہدف کے قریب پہنچ کر میچ کو انتہائی دلچسپ بنا دیا، تاہم پوری ٹیم 187 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یوں دونوں ٹیموں کا اسکور برابر رہا اور میچ ٹائی قرار پایا۔ جس کے بعد میچ سُپر اوور مرحلے میں داخل ہوگیا۔

دوسرے سُپر اوور میں ڈیوڈ مِلر اور ٹرسٹن اسٹبس نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 23 رنز اسکور کیے۔ جواب میں افغانستان کی ٹیم 19 رنز تک محدود رہی، اگرچہ رحمان اللہ گرباز نے آخری لمحات میں بھرپور مزاحمت کی۔

پہلے سُپر اوور میں افغان بیٹر عظمت اللہ عمرزئی نے دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر جنوبی افریقا کو 18 رنز کا ہدف دیا۔ جنوبی افریقا کو آخری تین گیندوں پر 13 رنز درکار تھے اور ٹیم مشکل میں دکھائی دے رہی تھی، تاہم ٹرسٹن اسٹبس نے جارحانہ انداز اپنایا اور آخری تین گیندوں پر 10 رنز بنا کر مقابلہ پھر سے برابر کردیا اور میچ کو دوسرے سپر اوور تک پہنچا دیا۔

یاد رہے کہ افغانستان کو اپنے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ جنوبی افریقا نے اپنے ابتدائی میچ میں کینیڈا کو 57 رنز سے ہرایا تھا۔ اس میچ کے نتیجے نے گروپ کی صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور دونوں ٹیموں کے لیے سپر اوور نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

Similar Posts