ٹرمپ کو بُرا کیوں کہا؟ باپ نے بیٹی کو گولی مار کر قتل کردیا

امریکا میں برطانوی نژاد 23 سالہ لوسی ہیریسن معمولی بحث پر اپنے ہی والد کی فائرنگ سے جان گنوا بیٹھیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ریاست ٹیکساس کے شہر پراسپر میں 10 جنوری کو پیش آیا تھا جس کی تفتیش کے دوران افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کے روز لوسی اور ان کے والد کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے تلخ بحث ہوئی تھی۔

عدالتی کارروائی میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق مقتولہ لوسی اپنے بوائے فرینڈ سیم لِٹلر کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے لندن سے امریکا آئی تھیں۔

مقتولہ کے بوائے فرینڈ نے عدالت میں بیان دیا کہ صبح کے وقت باپ بیٹی کے درمیان ٹرمپ سے متعلق گفتگو شدت اختیار کر گئی تھی۔

بوائے فرینڈ نے مزید بتایا کہ لوسی نے اپنے والد سے سوال کیا کہ اگر وہ کسی جنسی زیادتی کا شکار لڑکی کی جگہ ہوتیں تو انہیں کیسا محسوس ہوتا؟

اس پر والد نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی دو اور بیٹیاں بھی ہیں اس لیے انہیں اتنا دکھ نہ ہوتا۔ اس جواب پر لوسی شدید دلبرداشتہ ہو کر اوپر چلی گئیں۔

بعدازاں، ایئرپورٹ روانگی سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے، والد لوسی کو نیچے والے بیڈروم میں لے گئے تاکہ انہیں اپنی گلاک 9 ایم ایم پسٹل دکھا سکیں۔

لوسی کے بوائے فرینڈ نے بتایا کہ چند لمحوں بعد کمرے سے گولی چلنے کی آواز آئی۔ جب میں کمرے میں پہنچا تو لوسی زمین پر گری ہوئی تھیں اور والد گھبراہٹ میں چیخ رہے تھے۔

دوسری جانب کرس ہیریسن (والد) کے تحریری بیان میں کہا گیا کہ وہ اور لوسی اس وقت گن کرائم سے متعلق خبر دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیٹی کو بندوق دکھاتے ہوئے اچانک فائر ہوگیا اور انہیں یاد نہیں کہ انگلی ٹریگر پر تھی یا نہیں۔

نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں شراب نوشی کے عادی رہے ہیں اور واقعے کے روز جذباتی کیفیت کے باعث دوبارہ شراب پی لی تھی۔

پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر پہنچے والد کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی میں انھیں شراب خریدتے بھی دیکھا گیا۔

امریکی حکام نے ابتدائی طور پر اس موت کو ممکنہ “مین سلاٹر” کے طور پر دیکھا تھا تاہم کولن کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا۔

جس کے بعد فوجداری مقدمہ قائم نہیں ہوا۔ عدالتی کارروائی بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے جہاں جیوری اپنے نتائج پیش کرے گی۔

لوسی کی والدہ جین کوٹس نے بیٹی کو زندگی سے بھرپور اور اصولوں پر بحث کرنے والی شخصیت قرار دیا۔ لوسی برطانوی فیشن برانڈ بوہو کے لیے کام کرتی تھیں۔

 

Similar Posts